خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 677 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 677

خطبات مسرور جلد ہشتم 677 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 دسمبر 2010 پس ایمان لانے کے بعد عمل صالح انتہائی ضروری ہے۔اور عمل صالح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا۔پھر جو اجر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نہ ختم ہونے والے اجر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اعمالِ صالحہ کی اہمیت ایک جگہ اس طرح بیان فرمائی ہے کہ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصلحتِ اَنَّ لَهُمْ جَنْتِ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهُرُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ أَتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَلِدُونَ ( البقرۃ:26) اور خوشخبری دے دے ان لوگوں کو ، جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے کہ اُن کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔جب وہ ان باغات میں سے کوئی پھل بطور رزق دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا جا چکا ہے۔حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس محض اس سے ملتا جلتا رزق لایا گیا تھا۔اور ان کے لئے اُن باغات میں پاک بنائے ہوئے جوڑے ہوں گے اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اس آیت میں ایمان کو اعمالِ صالحہ کے مقابل پر رکھا ہے۔جنات اور انہار۔یعنی ایمان کا نتیجہ تو جنت ہے اور اعمالِ صالحہ کا نتیجہ انہار ہیں“۔( نہریں ہیں)۔پس جس طرح باغ بغیر نہر اور پانی کے جلدی بر باد ہو جانے والی چیز ہے اور دیر پا نہیں۔اسی طرح ایمان بے عمل صالح بھی کسی کام کا نہیں۔پھر ایک دوسری جگہ پر ایمان کو اشجار ( درختوں) سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ ایمان جس کی طرف مسلمانوں کو بلایا جاتا ہے وہ اشجار ہیں اور اعمالِ صالحہ ان اشجار کی آبپاشی کرتے ہیں۔غرض اس معاملہ میں جتنا جتنا تدبر کیا جاوے اُسی قدر معارف سمجھ میں آویں گے۔جس طرح سے ایک کسان کاشتکار کے واسطے ضروری ہے کہ وہ تخم ریزی کرے۔اسی طرح روحانی منازل کے کاشتکار کے واسطے ایمان جو کہ روحانیات کی تخم ریزی ہے ضروری اور لازمی ہے۔اور پھر جس طرح کاشتکار کھیت یا باغ وغیرہ کی آبپاشی کرتا ہے اسی طرح سے روحانی باغ ایمان کی آبپاشی کے واسطے اعمالِ صالحہ کی ضرورت ہے۔یادر کھو کہ ایمان بغیر اعمالِ صالحہ کے ایسا ہی بریکار ہے جیسا کہ ایک عمدہ باغ بغیر نہر یا کسی دوسرے ذریعہ آبپاشی کے نکما ہے“۔فرمایا ” درخت خواہ کیسے ہی عمدہ قسم کے ہوں اور اعلیٰ قسم کے پھل لانے والے ہوں مگر جب مالک آبپاشی کی طرف سے لا پروائی کرے گا تو اس کا جو نتیجہ ہو گا وہ سب جانتے ہیں۔یہی حال روحانی زندگی میں شجر ایمان کا ہے۔ایمان ایک درخت ہے جس کے واسطے انسان کے اعمالِ صالحہ روحانی رنگ میں اس کی آبپاشی کے واسطے نہریں بن کر آبپاشی کا کام کرتے ہیں۔پھر جس طرح ہر ایک کاشتکار کو تخم ریزی اور آبپاشی کے علاوہ بھی محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے، اسی طرح خدا تعالیٰ نے روحانی فیوض و برکات کے ثمراتِ حسنہ کے حصول کے واسطے بھی مجاہدات لازمی اور ضروری رکھے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم۔صفحہ 649-648)