خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 634
خطبات مسرور جلد ہشتم 634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 آخر جب جنگ ٹھونسی گئی تو پھر اس کے سوا آپ کے پاس بھی کوئی چارہ نہیں تھا کہ مرد میدان کی طرح مقابلہ کرتے۔بہر حال یہ لوگ معمولی تعداد میں تھے جیسا کہ میں نے کہا، کل ستر بہتر افراد تھے اور ان کے مقابلے پر ایک بہت بڑی فوج تھی۔یہ کس طرح ان کا مقابلہ کر سکتے تھے ؟ بہر حال انہوں نے ایک صحیح مقصد کے لئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے ، اپنی جانیں قربان کر دیں اور ایک ایک کر کے شہید ہوتے گئے۔یزید پلید سے خدا کا انتقام اللہ تعالیٰ کے بدلے لینے کے بھی اپنے طریقے ہیں جیسا کہ حضرت امام حسین نے فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ میرا انتقام لے گا، اللہ تعالیٰ نے لیا۔یزید کو عارضی کامیابی بظاہر حاصل ہوئی لیکن کیا آج کوئی یزید کو اس کی نیک نامی کی وجہ سے یاد رکھتا ہے ؟ اگر نیک نامی کی وجہ سے جانا جاتا تو مسلمان اپنے نام بھی اس کے نام پر رکھتے لیکن آج کل کوئی اپنے بچے کا نام یزید نہیں رکھتا۔وہ اگر جانا جاتا ہے تو اس نام سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال فرمایا کہ یزید پلید “۔حضرت امام حسین کا ایک مقصد تھا۔آپ حکومت نہیں چاہتے تھے۔آپ حق کو قائم کرنا چاہتے تھے اور وہ آپ نے کر دیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی بڑی اعلیٰ تشریح فرمائی ہے کہ وہ اصول جس کی تائید میں حضرت امام حسین کھڑے ہوئے تھے یعنی انتخاب خلافت کا حق اہل ملک کو ہے ، جماعت کو ہے۔کوئی بیٹا اپنے باپ کے بعد بطور وراثت اس حق پر قابض نہیں ہو سکتا۔فرمایا کہ یہ اصول آج بھی ویسا ہی مقدس ہے جیسا کہ پہلے تھا بلکہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت نے اس حق کو اور بھی نمایاں کر دیا ہے۔پس کامیاب حضرت امام حسین ہوئے نہ کہ یزید۔(ماخوذ از ” کامیابی“ انوار العلوم جلد 10 صفحہ 589 ) اور پھر قدرت کا ایک اور طریقے سے انتقام دیکھیں کہ کیسا بھیانک انتقام ہے۔اس کے بارے میں بھی حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی کتاب ”خلافتِ راشدہ میں ایک واقعہ کا ذکر کیا کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ یزید کے مرنے کے بعد جب اس کا بیٹا تخت نشین ہوا، جس کا نام بھی اپنے دادا کے نام پر معاویہ ہی تھا تو لوگوں سے بیعت لینے کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اور چالیس دن تک باہر نہیں نکلا۔پھر ایک دن وہ باہر آیا اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے تم سے اپنے ہاتھ پر بیعت لی ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں اپنے آپ کو تم سے بیعت لینے کا اہل سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ میں چاہتا تھا کہ تم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور اس وقت سے لے کر اب تک میں گھر میں یہی سوچتا رہا کہ اگر تم میں کوئی شخص لوگوں سے بیعت لینے کا اہل ہو تو میں یہ امارت اس کے سپر د کر دوں اور خود بری الذمہ ہو جاؤں مگر باوجود غور کرنے کے مجھے تم میں سے کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آیا۔اس لئے اے لوگو! یہ اچھی طرح سُن لو کہ میں اس منصب کا اہل نہیں ہوں اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میر اباپ اور میر ادادا بھی