خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 633 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 633

633 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم تھے اور تیروں کے زخم ان کے علاوہ تھے۔اور پھر ظلم کی یہ انتہا ہوئی کہ حضرت امام حسین کا سر کاٹ کر، جسم سے علیحدہ کر کے اگلے روز عبید اللہ بن زیاد گورنر کوفہ کے پاس بھیجا گیا اور گورنر نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر کوفہ میں نصب کر دیا۔اس کے بعد زہر بن قیس کے ہاتھ یزید کے پاس سر بھیج دیا گیا۔(ماخوذ از تاریخ الطبری جلد 6 صفحہ 243 تا 250 - ذکر الخبر عما كان فيها من الاحداث۔دارالفکر بیروت 2002ء) (ماخوذ از تاریخ اسلام از اکبر شاہ خان نجیب آبادی حصہ دوم صفحہ 51 تا 78۔نفیس اکیڈیمی کراچی ایڈیشن 1998ء) تو یہ سلوک تھا جو آپ کے شہید کرنے کے بعد آپ کی نعش سے کیا گیا۔اس سے ظالمانہ سلوک اور کیا ہو سکتا ہے؟ آپ کی لاش کو کچلا گیا۔سر تن سے جدا کیا گیا۔اس طرح لاش کی بے حرمتی شائد ہی کوئی خبیث ترین دشمن کسی دوسرے دشمن کی کر سکتا ہو، نہ کہ ایک کلمہ پڑھنے والا، اپنے آپ کو اس رسول سے منسوب کرنے والا جس نے انسانی قدروں کے قائم رکھنے کی اپنے ماننے والوں کو بڑی سختی سے تلقین فرمائی ہے۔پس یقیناً اس عمل سے ایسا فعل کرنے والوں کی ہوس باطنی کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ لوگ دنیا دار تھے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تمام حدیں پھلانگ سکتے تھے اور انہوں نے پھلانگیں۔دین سے اُن کا ذرہ بھی کوئی واسطہ نہیں تھا۔ان کی دنیا داری کو ہی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محسوس کر کے یزید کی بیعت سے انکار کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”حضرت امام حسین نے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 580 مطبوعہ ربوہ) پھر فرمایا: "یزید پلید کی بیعت پر اکثر لوگوں کا اجماع ہو گیا تھا مگر امام حسین نے اور ان کی جماعت نے اس اجماع کو قبول نہیں کیا اور اس سے باہر رہے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه 178 خط بنام مولوی عبد الجبار مطبوعہ ربوہ) لیکن بیعت نہ کرنے کے باوجو د حضرت امام حسین نے صلح کی کوشش کی تھی اور جب آپ نے دیکھا کہ مسلمانوں کا خون بہنے کا خطرہ ہے تو اپنے ساتھیوں کو واپس بھیج دیا۔انہوں نے کہا تم جو جاسکتے ہو مجھے چھوڑ کر جاؤ۔اب یہ اور حالات ہیں۔جو چند ایک آپ کے ساتھ رہنے پر مصر تھے وہ تقریباً تیس چالیس کے قریب تھے یا آپ کے خاندان کے افراد تھے جو ساتھ رہے۔پھر آپ نے یزید کے نمائندوں کو یہ بھی کہا کہ میں جنگ نہیں چاہتا۔مجھے واپس جانے دو تاکہ میں جاکر اللہ کی عبادت کروں۔یا کسی سرحد کی طرف جانے دو تاکہ میں اسلام کی خاطر لڑتا ہوا شہید ہو جاؤں۔یا پھر مجھے اسی طرح یزید کے پاس لے جاؤ تا کہ میں اسے سمجھا سکوں کہ کیا حقیقت ہے۔لیکن نمائندوں نے کوئی بات نہ مانی۔(ماخوذ از تاریخ اسلام از اکبر شاہ خاں نجیب آبادی۔جلد 2 صفحہ 68 نفیس اکیڈیمی کراچی ایڈیشن 1998ء)