خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 631 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 631

خطبات مسرور جلد ہشتم 631 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 اور ان دونوں کے لئے تو آنحضرت صلی علی ایم یہ دعا بھی اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔(سنن الترمذی کتاب المناقب باب 104/000 حدیث : 3782) پس جو اس حد تک آنحضرت صلی نیلم کی دعاؤں سے فیض پانے والا ہو اور پھر اُس پر یہ کہ شہادت کا رتبہ بھی پا جائے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق جنت کے اعلیٰ رزقوں کا وارث بنتا ہے اور بنا۔اور آپ کے قاتل یقینا اللہ تعالیٰ کا غضب پانے والے ہوئے۔یہ مہینہ یعنی محرم کا مہینہ جس کے پہلے عشرے سے ہم گزر رہے ہیں، اس میں آج سے چودہ سو سال پہلے دس تاریخ کو ظالموں نے آنحضرت علی علیم کے اس پیارے کو شہید کیا تھا جس کی داستان سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان ظالموں کو یہ خیال نہ آیا کہ کس ہستی پر ہم تلوار اٹھانے جارہے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا جب ایمان مفقود ہو جائے تو پھر سب جذبات اور احساسات مٹ جاتے ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہی ختم ہو جاتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ کا خوف ختم ہو جائے تو پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کس بندے کا خدا تعالیٰ کی نظر میں یا اس کے رسول علی میم کی نظر میں کیا مقام ہے ؟ حضرت امام حسین کی شہادت کس طرح ہوئی اور اس کے بعد آپ کی نعش مبارک سے کیا سلوک کیا گیا؟ یہ واقعہ سن کر انسان اس یقین پر قائم ہو جاتا ہے کہ شاید ظاہر میں تو وہ لوگ کلمہ پڑھتے ہوں لیکن حقیقت میں انہیں خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ یکم انسانی قدروں کو قائم فرمانے آئے تھے۔آپ صلی یم نے جنگوں کے بھی کچھ اصول و ضوابط بتائے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ کریم میں دشمنوں کے لئے انصاف اور حد اعتدال میں رہنے کی تلقین فرمائی۔اور دشمن بھی ایسے دشمن جو اسلام اور آنحضرت صلی علیکم کو ختم کرنے کے درپے تھے۔ان سے بھی جنگ کی صورت میں ان کے قتل ہو جانے پر عربوں کے رواج کے مطابق جو مثلہ اور لاشوں کی بے حرمتی کا رواج تھا، اس سے منع فرمایا۔(صحیح مسلم کتاب الجہاد و السير باب تأمیر الامام الامراء على البعوث۔۔۔حدیث نمبر 4413) آپ صلی میں کم تو ان تمام بد عادات اور روایات کو ختم کرنے آئے تھے جن سے انسانی قدریں پامال ہوتی ہیں۔آپ نے تو کفار سے بھی عفو اور نرمی کا سلوک فرمایا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے اس پیارے رسول کے پیارے نواسے جس کے لئے آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کرنا۔پھر آپ نے فرمایا کہ جو میرے ان نواسوں سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرے گا اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے جنت میں جائے گا اور اسی طرح ناپسندیدگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے گا۔(ماخوذ از المستدرک للحاكم كتاب معرفة الصحابه ومن مناقب الحسن والحسین اپنی بنت رسول اللہ صلی ا مل جلد 3 صفحہ 376 حدیث : 4838)