خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 630 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 630

خطبات مسرور جلد ہشتم 630 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 امام حسین رضی اللہ عنہ ، آپ کے خاندان کے افراد اور چند ساتھیوں کو ظالمانہ طور پر شہید کیا گیا، اصل میں حضرت عثمان کی شہادت کے واقعے کا ہی ایک تسلسل ہے۔جب تقویٰ میں کمی ہونی شروع ہو جائے، ذاتی مفادات اجتماعی مفادات پر حاوی ہونا شروع ہو جائیں، دنیا دین پر مقدم ہو جائے تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے کہ ظلم و بربریت کی انتہا کی جاتی ہے۔اللہ والوں کا اللہ کے نام پر ہی خون بہایا جاتا ہے۔یہ کتنی بد نصیبی ہے کہ کلمہ گو ہی کلمہ گوؤں کو ظلم و تعدی کا نشانہ بنارہے ہوں، زیادتیوں اور دکھوں کا نشانہ بنا رہے ہوں حتی کہ معصوموں کا خون، بچوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہ کیا جارہا ہو۔خدا کے اور رسول کے نام پر خدا اور رسول پر جان ، مال اور عزت قربان کرنے والوں کو دکھوں، تکلیفوں اور مصائب کا نشانہ بنایا جارہا ہو۔اس سے بڑھ کر ان لوگوں کی کیا بد نصیبی ہو سکتی ہے ؟ جو خدا اور رسول کے نام پر ظلموں کا بازار گرم کرتے ہوئے یہ ظلم کر رہے ہوتے ہیں یا ظلموں کا یہ بازار گرم کرتے ہیں، قرآنِ کریم ایسے لوگوں کی بد حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَلِدًا فِيهَا وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء: 94) اور جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہو گی وہ اس میں لمبے عرصے تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ کا غضب اس پر نازل ہو گا اور اُسے اپنی جناب سے اللہ دور کر دے گا، اپنے سے دور ہٹا دے گا۔یعنی لعنت برسائے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرے گا۔مناقب حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے لئے ناراضگی کی انتہا کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔پھر یہ نہیں کہ جہنم میں ڈالا جائے گا بلکہ لمبے عرصے تک جہنم اس کا ٹھکانہ ہے اور پھر اللہ کا غضب اس پر برستا رہے گا اور اللہ کی لعنت کا مور د بنتا رہے گا۔یہ جہنم، یہ اللہ کا غضب یہ اللہ تعالیٰ کی لعنت، یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ بہت بڑا عذاب ہے۔یہ عذاب عظیم ہے۔اس سے زیادہ بڑی بدنصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کلمہ گو ہونے کے باوجود ایک شخص جہنم کی آگ میں پڑ کر مسلسل اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت اور بہت بڑے عذاب میں گرفتار ہو۔پس جو اپنے مفادات اور دنیاوی ہو اوہوس کے لئے ایسے ظالمانہ فعل کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی انتہائی ناراضگی کا موجب بن رہے ہوتے ہیں۔اور مظلوم اس قتل کے نتیجے میں اَحيَا عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران : 170) کا اعزاز پاتے ہیں۔وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔یہ سلوک اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے۔پس جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہے اور اپنے رب سے جنتوں کا رزق پار ہا ہو ، اس کے لئے اس سے بڑا اور کیا انعام ہو سکتا ہے۔اور حضرت امام حسن اور امام حسین جو تھے ان کے بارہ میں تو آنحضرت صلی للی یکم نے فرمایا کہ وہ جنت کے جوانوں کے سردار ہوں گے“۔(المستدرک للحاكم كتاب معرفة الصحابه ومن مناقب الحسن والحسین اپنی بنت رسول اللہ صلی لال مل جلد 3 صفحہ 377 حدیث: 4840)