خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 629
خطبات مسرور جلد ہشتم 50 50 629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010ء بمطابق 10 فتح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ کا ایک شعر ہے کہ۔وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں یہ کیا ہی ستا سودا ہے دشمن کو تیر چلانے دو (کلام محمود نظم نمبر 94 صفحہ 28) اسلامی تاریخ کا ایک دردناک واقعہ یہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی نظم کا شعر ہے جس میں جماعت کو صبر اور حوصلہ اور استقامت کی تلقین کی گئی ہے۔یہ نظم آپ نے 1935 میں کہی تھی جب جماعت پر شور شوں کا زور تھا۔بہر حال اس وقت میں اس نظم کے حوالے سے تو مضمون نہیں بیان کر رہا۔اس شعر کے حوالے سے بات کروں گا۔اس شعر سے اسلام کی تاریخ کا ایک درد ناک اور ظلم کی انتہا کا واقعہ ہر مسلمان کی نظر میں آتا ہے۔لیکن اس اندوہناک اور دردناک واقعہ کی حقیقت کا صحیح اور اک وہی کر سکتا ہے جو ظلموں کی چکی میں پیسا جارہا ہو۔اس واقعہ پر ہمد ردی اور غم اور افسوس کا اظہار تو بے شک ہر مسلمان کرتا ہے اور شیعہ صاحبان ہر سال محرم کے مہینے میں اس کا اظہار بھی اپنے طریقے کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور گو اس میں ہمارے نزدیک غلو کی حد تک بھی چلے جاتے ہیں لیکن بہر حال ان کا ایک اپنا اظہار ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس ظلم کی حقیقت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو ظلموں میں سے گزر رہا ہو اور آج اس زمانہ میں جماعت احمدیہ سے زیادہ کون واقعہ کربلا کا احاطہ اور تصور کر سکتا ہے۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں۔یہ دونوں فریق کون تھے ؟ یہ دونوں کلمہ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھنے والے تھے یا پڑھنے کا دعویٰ کرنے والے تھے۔لیکن ایک کلمہ کی حقیقت کو جانتے ہوئے مظلوم بنا اور دوسراکلمہ کا پاس نہ کرتے ہوئے ظالم بنا۔واقعہ کر بلا بھی جس میں حضرت