خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 612 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 612

خطبات مسرور جلد ہشتم 612 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 یہاں تو خاکساری ہے ( یعنی میری طرف سے تو خاکساری ہے ، میں تو اس بات پر ناراض نہیں ہوا۔اگر مولوی صاحب نے کچھ کیا تو انہوں نے اپنے دل کا جوش نکالا اور میں نے ان کو روک دیا)۔وہ آگے لکھتے ہیں کہ جب اس نے ق (قاف) ادانہ کرنے کا حملہ کیا تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ لکھنو کا رہنے والا تو نہیں ہوں کہ میر الہجہ ووو لکھنوی ہو۔میں تو پنجابی ہوں۔فرمایا کہ حضرت موسیٰ پر بھی یہ اعتراض ہوا کہ لا يَكَادُ يُبِينُ (الزخرف: 53) اور احادیث میں مہدی کی نسبت بھی آیا ہے کہ اس کی زبان میں لکنت ہو گی۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب سے جب یہ واقعہ پیش آیا تو حضرت نے اپنی جماعت موجودہ کو ( جو لوگ وہاں بیٹھے تھے ان کو ) خطاب کر کے فرمایا کہ میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سب و شتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے( یعنی گالیوں تک بھی نوبت جاوے) تو اس کو گوارا کرنا چاہئے کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے۔ہمارا کیا حق ہے کہ ہم اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مُریدوں سے چاہتے ہیں۔یہ بھی ان کا احسان سمجھتے ہیں کہ نرمی سے باتیں کریں۔فرمایا کہ پیغمبر خدا صلی علیکم نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے والے کا تیرے پر حق ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہمان کو ذرا سا بھی رنج ہو تو وہ معصیت میں داخل ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ ٹھہریں چونکہ کلمہ کا اشتراک ہے یعنی کہ نرمی دکھائیں۔کلمہ تو ہمارا ایک ہے۔جب تک یہ نہ سمجھیں۔جو کہیں اُن کا حق ہے۔(ماخوذاز سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 453t451) گالیوں سے بھرے ہوئے خط حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ جب آخری دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور جا کر ٹھہرے تو میں ان دنوں خواجہ صاحب کا، خواجہ کمال الدین صاحب کا ) ملازم تھا اور حضرت صاحب کی ڈاک لا کر حضور کو پہنچایا کرتا تھا۔اور ڈاک میں دو تین خط بے رنگ ہوا کرتے تھے۔( جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے۔بے رنگ خط جو ہوتے تھے ان میں عموما گالیاں ہوا کرتی تھیں اور اپنے پاس سے پیسے دے کر اُن خطوں کو وصول کرنا پڑتا تھا۔) کہتے ہیں دو تین خط بے رنگ ہوا کرتے تھے جو میں وصول کر لیا کرتا تھا اور حضرت صاحب کو پہنچا دیا کرتا تھا۔( وہ خط میں ڈاکخانہ سے وصول کر تا تھا اور حضرت صاحب کو پہنچا دیا کرتا تھا) اور حضرت صاحب مجھے ان کے پیسے دے دیا کرتے تھے۔ایک دن میں نے خواجہ صاحب کے سامنے بے رنگ خط وصول کئے تو خواجہ صاحب نے مجھے روکا کہ بے رنگ خط مت لو۔میں نے کہا میں تو ہر روز وصول کرتا ہوں اور حضرت صاحب کو پہنچاتا ہوں اور حضرت نے مجھے کبھی نہیں روکا۔مگر اس پر بھی مجھے خواجہ صاحب نے سختی کے ساتھ روک دیا کہ یہ بے رنگ خط وصول نہیں کرنے۔جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ڈاک پہنچانے گیا تو میں نے عرض کی کہ حضور ! آج مجھے خواجہ صاحب نے بے رنگ خط وصول کرنے سے