خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 611
611 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کیا کہ میں اُس وقت بڑھائل کی طرف دیکھ رہا تھا ( وہ شخص وہیں سامنے بیٹھا ہوا تھا)۔اس نے شرم کے مارے اپناسر نیچے اپنی رانوں میں دیا ہوا تھا۔اپنے گھٹنوں میں سر دیا ہوا تھا۔اور اس کے چہرے کا رنگ سفید پڑ گیا تھا۔وہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکا۔(ماخوذ از سیرۃ المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ 139-138 روایت نمبر 148 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) سچائی کے سامنے اگر اس طرح آمنے سامنے ہو جائیں تو کسی میں شرافت کی ہلکی سی بھی رمق ہو ، بے شک نقصان پہنچانے والا دشمن ہی ہو۔تو وہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا۔( آج کل کے جو دشمن ہیں ان کے اخلاق تو بالکل ہی تباہ و برباد ہو کر رہ گئے ہیں۔ان میں ذراسی بھی شرافت کی رمق نہیں۔) ایک بغدادی ڈاکٹر اور حضور کا متحمل حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بیان فرماتے ہیں کہ 13 فروری 1903 کو ایک ڈاکٹر صاحب لکھنؤ سے تشریف لائے۔بقول ان کے وہ بغدادی الاصل تھے۔اور عرصے سے لکھنو میں مقیم تھے۔انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ چند احباب نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بغرضِ دریافت حال بھیجا ہے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پھر سوال وجواب کا سلسلہ شروع کیا۔اُن کے بیان میں شوخی، استہزاء اور بیا کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کی اور ان کی باتوں کا جواب دیتے تھے۔سلسلہ کلام میں ایک موقع پر انہوں نے سوال کیا کہ عربی میں آپ کا دعویٰ ہے کہ مجھ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں لکھ سکتا۔( سوال کرنے والے نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ فصیح عربی کوئی نہیں لکھ سکتا)۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ ہاں۔میرا دعویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے عربی زبان سکھائی ہے۔کوئی نہیں لکھ سکتا۔اس پر نووارد نے نہایت ہی شوخی سے مستہزیانہ طریق پر ( استہزاء کرتے ہوئے) کہا کہ بے ادبی معاف۔آپ کی زبان سے توق ( قاف) بھی نہیں نکل سکتا۔( اس نے آگے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جواب دیا کہ آپ کہتے ہیں کہ میں بڑی اچھی عربی لکھ سکتا ہوں، میرے سے زیادہ کوئی نہیں لکھ سکتا۔لیکن آپ کی زبان سے تو عربی میں ق ( قاف) بھی ادا نہیں ہوتا)۔شیخ صاحب کہتے ہیں کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا۔اس کا طریق بیان بہت کچھ دُکھ وہ تھا۔ایسا تکلیف دہ تھا کہ ہم اسے برداشت نہ کر سکتے تھے۔مگر حضرت کے حلم کی وجہ سے خاموش تھے۔لیکن حضرت صاحبزادہ مولانا عبد اللطیف صاحب شہید مر حوم ضبط نہ کر سکے۔وہ بھی وہاں مجلس میں بیٹھے تھے۔وہ اس کی طرف لپک کر بولے کہ یہ حضرت اقدس ہی کا حوصلہ ہے۔سلسلہ کلام کسی قدر بڑھ گیا یعنی مولوی عبد اللطیف صاحب شہید اور اس شخص کے درمیان تلخی زیادہ بڑھ گئی ) اور یہ کہتے ہیں کہ قریب تھا دونوں گھتم گتھا ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مخلص اور جانثار غیور فدائی کو روک دیا۔اس پر نو وارد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے کہا کہ استہزاء اور گالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم تو ناراض نہیں ہوتے۔