خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 607
خطبات مسرور جلد ہشتم 607 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب لکھتے ہیں کہ جالندھر کے مقام پر وہ یعنی میر عباس علی صاحب! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور بیٹھے ہوئے اعتراضات کر رہے تھے۔حضرت مخدوم الملت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس مجلس میں موجود تھے اور مجھے خود انہوں نے ہی یہ واقعہ سنایا۔کہتے ہیں کہ مولانا نے فرمایا کہ میں دیکھتا تھا کہ میر عباس علی صاحب ایک اعتراض کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہایت شفقت اور رافت اور نرمی سے اس کا جواب دیتے تھے۔اور جوں جوں حضرت صاحب اپنے جواب اور طریق خطاب میں نرمی اور محبت کا پہلو اختیار کرتے ، میر صاحب کا جواب بڑھتا جاتا۔یہاں تک کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی اور بے ادبی پر اتر آیا اور تمام تعلقات دیرینہ اور شرافت کے پہلوؤں کو ترک کر کے تو تو، میں میں پر آ گیا۔میں دیکھتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس حالت میں اسے یہی فرماتے: جناب میر صاحب! آپ میرے ساتھ چلیں۔میرے پاس رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کوئی نشان ظاہر کر دے گا اور آپ کو رہنمائی کرے گا وغیرہ وغیرہ۔مگر میر صاحب کا غصہ اور بیا کی بہت بڑھتی گئی۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں حضرت کے حلم اور ضبط نفس کو دیکھتے ہوئے میر عباس علی صاحب کی اس سبک سری کو برداشت نہ کر سکا۔جو زیادتی ہو رہی تھی، اس کو برداشت نہیں کر سکا کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنا بڑا صبر اور حلم دکھارہے تھے اور (مولوی عبد الکریم صاحب) کہتے ہیں، میں جو دیر سے پیچ و تاب کھا رہا تھا اور اپنے آپ کو بے غیرتی کا مجرم سمجھ رہا تھا کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ اس طرح حملہ کر رہا ہے اور میں خاموش بیٹھا ہوں، مجھ سے نہ رہا گیا اور میں باوجود اپنی معذوری کے اس پر لپکا اور لکارا اور ایک تیز آوازہ اس پر گسا۔( اونچی آواز میں اس کو للکارا) جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اُٹھ کر بھاگ گیا۔حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ضبط نفس اور حلم کا جو نمونہ دکھایا، میں اسے دیکھتا تھا اور اپنی حرکت پر منفعل ہو تا تھا۔اور مجھے خوشی بھی تھی کہ میں نے اپنے آپ کو بے غیرتی کا مجرم نہیں بنایا کہ وہ میرے سامنے حضرت کی شان میں نا گفتنی باتیں کہے اور میں سنتار ہوں۔کہتے ہیں گو بعد کی معرفت سے مجھ پر کھلا کہ حضرت کا ادب میرے اس جوش پر غالب آنا چاہئے تھا۔(ماخوذاز سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانئی صفحہ 445-444) یعنی ادب کا یہ تقاضا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بیٹھا تھا تو خاموش رہتا۔گو بے شک جوش میرے دل میں تھا۔بلکہ کئی ایسے موقعوں پر ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب میں سے کسی نے اٹھ کے کسی پر زیادتی کی یا جوش دکھایا تو آپ نے اس پر ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار بھی فرمایا کہ غیروں کے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہئے۔