خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 602
خطبات مسرور جلد ہشتم 602 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 کبھی ایمان میں کمزوری نہ دکھانا۔قربانیوں اور صبر کے یہ عجیب نمونے ہیں جو ہمیں اسلام کی تاریخ میں عورتوں اور مردوں، نوجوانوں اور بوڑھوں ہر جگہ میں نظر آتے ہیں۔ان نمونوں کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ہمارے نبی صلی ا ہم نے اپنے زمانے میں خود سبقت کر کے ہر گز تلوار نہیں اٹھائی۔بلکہ ایک زمانہ دراز تک کفار کے ہاتھ سے دُکھ اٹھایا۔اور اس قدر صبر کیا جو ہر ایک انسان کا کام نہیں اور ایسا ہی آپ کے اصحاب بھی اسی اعلیٰ اصول کے پابند رہے اور جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ دُکھ اٹھاؤ اور صبر کرو۔ایسا ہی انہوں نے صدق اور صبر دکھایا۔وہ پیروں کے نیچے کچلے گئے انہوں نے دم نہ مارا۔ان کے بچے ان کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے۔وہ آگ اور پانی کے ذریعے سے عذاب دیئے گئے مگر وہ شر کے مقابلے سے ایسے باز رہے کہ گویاوہ شیر خوار بچے ہیں۔کون ثابت کر سکتا ہے کہ دنیا میں تمام نبیوں کی امتوں میں سے کسی ایک نے بھی باوجو د قدرت انتقام ہونے کے خدا کا حکم سن کر ایسا اپنے تئیں عاجز اور مقابلہ سے دستکش بنالیا جیسا کہ انہوں نے بنایا؟ کس کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی ایسا گروہ ہوا ہے جو باوجود بہادری اور جماعت اور قوتِ بازو اور طاقت مقابلہ اور پائے جانے تمام لوازم مردمی اور مردانگی کے پھر خون خوار دشمن کی ایذاء اور زخم رسانی پر تیرہ برس تک برابر صبر کرتا رہا؟ ہمارے سید و مولیٰ اور آپ کے صحابہ کا یہ صبر کسی مجبوری سے نہیں تھا بلکہ اس صبر کے زمانے میں بھی آپ کے جاشار صحابہ کے وہی ہاتھ اور بازو تھے جو جہاد کے حکم کے بعد انہوں نے دکھائے۔اور بسا اوقات ایک ہزار جوان نے مخالف کے ایک لاکھ سپاہی نبرد آزما کو شکست دے دی۔ایسا ہوا تا لوگوں کو معلوم ہو کہ جو مکہ میں دشمنوں کی خون ریزیوں پر صبر کیا گیا تھا اُس کا باعث کوئی بزدلی اور کمزوری نہیں تھی بلکہ خدا کا حکم سن کر انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔اور بکریوں اور بھیڑوں کی طرح ذبح ہونے کو تیار ہو گئے تھے۔بے شک ایسا صبر انسانی طاقت سے باہر ہے اور گو ہم تمام دنیا اور تمام نبیوں کی تاریخ پڑھ جائیں تب بھی ہم کسی امت میں اور کسی نبی کے گروہ میں یہ اخلاق فاضلہ نہیں پاتے اور اگر پہلوں میں سے کسی کے صبر کا قصہ بھی ہم سنتے ہیں تو فی الفور دل میں گزرتا ہے کہ قرائن اس بات کو ممکن سمجھتے ہیں کہ اس صبر کا موجب دراصل بزدلی اور عدم قدرت انتقام ہو۔مگر یہ بات کہ ایک گروہ جو در حقیقت سپاہیانہ ہنر اپنے اندر رکھتا ہو۔اور بہادر اور قوی دل کا مالک ہو اور پھر وہ دُکھ دیا جائے اور اس کے بچے قتل کئے جائیں اور اس کو نیزوں سے زخمی کیا جائے مگر پھر بھی وہ بدی کا مقابلہ نہ کرے۔یہ وہ مردانہ صفت ہے جو کامل طور پر یعنی تیرہ برس برابر ہمارے نبی کریم اور آپ کے صحابہ سے ظہور میں آئی ہے۔اس قسم کا صبر جس میں ہر دم سخت بلاؤں کا سامنا تھا جس کا سلسلہ تیرہ برس کی دراز مدت تک لمبا تھا در حقیقت بے نظیر ہے۔اور اگر کسی کو اس میں شک ہو تو ہمیں بتلاوے کہ گزشتہ راستبازوں میں سے اس قسم کے صبر کی نظیر کہاں ہے ؟“۔