خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 44

44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ہزاروں چراغ روشن ہوتے ہیں۔دنیا نے دیکھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں ہی ہزاروں لاکھوں چراغ روشن کر دیئے اور آج تک یہ روشنی دنیا میں پھیلتی چلی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان روشنی پانے والوں ، عبادت کرنے والوں اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کو خوشخبریاں بھی دی ہیں کہ وہ جنت کے وارث بنیں گے۔آنحضرت علی ایم نے فرمایا: میں ان نور حاصل کرنے والوں کو پہچان لوں گا۔اس کی تفصیل ایک روایت میں یوں بیان ہوئی ہے۔عبد الرحمن بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر اور حضرت ابو درداء سے سنا کہ رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا کہ قیامت کے دن انتوں میں سے میں اپنی اُمت کو پہچان لوں گا۔(صحابہ) نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ کیسے اپنی امت کو پہچان لیں گے ؟ فرمایا کہ میں ان کو پہچان لوں گا کیونکہ ان کی کتاب ان کو دائیں ہاتھ میں دی جائے گی اور کثرت سجود کی وجہ سے ان کے چہروں کی علامتوں سے میں ان کو پہچان لوں گا اور میں انہیں ان کے نور کی وجہ سے پہچان لوں گا جو ان کے آگے ہو گا۔( مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 275 مسند ابوالدرداء حدیث 22083 مطبوعہ بیروت 1998ء) اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کی نشانی بتائی ہے کہ نور ان کے آگے آگے چلے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ سجدہ کرنے والوں کے متعلق فرماتا ہے یا مومنوں کے متعلق فرماتا ہے جن کے چہروں سے نور ظاہر ہوتا ہے کہ تربهُم رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ اثرِ السُّجُودِ (الفتح: 30) تو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔وہ اللہ ہی سے فضل اور رضا چاہتے ہیں۔سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر ان کی نشانی ہے۔پس چہروں کا یہ نور، کثرت سجود اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہر دم تیار رہنے اور اس کے حصول کے لئے کوشش کرنے کی وجہ سے انہی کے آگے آگے چلے گا جو اعمال صالحہ بجالانے والے ہوں گے ، جو عبادات کرنے والے ہوں گے۔پس آنحضرت صلی ال نیلم نے امت میں انہیں شامل فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں اور عبادت میں بھی طاق ہیں۔پس ایک احمدی کو اس مضمون کو اچھی طرح ذہن نشین کرنا چاہئے۔عبادتوں کے معیار اونچے کرنے سے نور حاصل ہونے کے بارہ میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت بریده بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی لی ہم نے فرمایا: اندھیرے میں مسجد کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت دے دے۔(سنن ابو داؤد کتاب الصلاة باب ما جاء فى المشى الى الصلاة في الظلام حديث 561) یعنی فجر اور عشاء کی نمازیں پڑھنے کے لئے مسجد میں آنے والوں کو نور کی بشارت دے دے جو تکلیف