خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 598
خطبات مسرور جلد ہشتم 598 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 اس کے بعد قریش نے حضرت ابو بکر کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں مگر وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ قائم رہے۔روایت میں آتا ہے کہ کفار نے حضرت ابو بکر کو بہت مارا پیٹا۔آپ کے سر اور داڑھی سے پکڑ کر اس قدر آپ کو کھینچا جاتا تھا کہ آپ کے اکثر بال گر گئے۔تو یہ ظلم روار کھا گیا لیکن آپ نے صبر کیا۔(السيرة الحلبية - جلد 1 باب استخفاءه واصحابه فی دار الارقم بن ابی الار تم صفحہ 417) مجھے یاد آیا کہ یہی حال پاکستان میں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تم لوگ نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔ہمارے کمزور لوگوں کو نمازیں پڑھ کے ور غلالو گے ، بہکا لو گے کہ تم لوگ بھی اپنے آپ کو مسلمانوں کی طرح ظاہر کر رہے ہو۔اسی لئے یہ قانون پاس ہوا ہے۔اور تو اور ، کل ایک جگہ بلکہ دو جگہ سے یہ خبر بھی آئی ہے، پاکستان میں اخبار میں بھی چھپ گئی ہے کہ غیر احمدی مولویوں نے یہ رپورٹ پولیس میں درج کروادی کہ احمدی قربانی کی عید پہ قربانی کرتے ہیں اور یہ تو اسلامی شعار میں داخل ہے اس لئے ان کو اس سے روکا جائے، ہمارے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔تو یہاں تک یہ پہنچ گئے ہیں۔پولیس کا بھی یہ حال ہے کہ پولیس نے احمدیوں کو بلایا اور ان کو وار ننگ دی کہ اگر قربانی کرنی ہے تو چار دیواری کے اندر ہو گی۔باہر ذرا سا بھی کوئی اظہار نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ تمہیں یہ قربانی کرنے کا کوئی حق نہیں اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا بھی تمہیں حق نہیں۔حالانکہ جب پتہ کیا گیا تو پتہ لگا کہ وہ احمدی تو پہلے ہی قربانیاں اپنے گھر میں کرتے ہیں بلکہ سوائے کسی اپنے بہت قریبیوں کے اظہار بھی نہیں کرتے کہ ہم نے قربانی کی ہے۔لیکن بہر حال انہوں نے ایک فساد پھیلانا تھا اور پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی بہانہ ان کے ہاتھ آتا رہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔اب یہ ایک عورت کا بھی صبر اور استقامت کا عجیب واقعہ ہے۔حضرت ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب اسلام قبول کیا تو قریش کی عورتوں کو مخفی طور پر اسلام کی تبلیغ کرنے لگیں۔قریش کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم تجھے تیرے قبیلے کے پاس لے جائیں گے۔پھر انہوں نے حضرت اتم شریک کو اونٹ کی ننگی پیٹھ پر سوار کیا اور کہتی ہیں تین دن تک نہ مجھے پانی پینے کو دیا اور نہ ہی کھانے کو دیا تو آپ کی یہ حالت ہو گئی کہ حواس بر قرار نہ رہے۔پھر وہ لوگ ایک جگہ اترے۔خود تو وہ لوگ سائے دار جگہ میں بیٹھے اور اُن کو دھوپ میں باندھ دیا۔حضرت ام شریک فرماتی ہیں کہ اسی حالت میں میں نے ایک پانی کا بر تن دیکھا۔میں اس میں سے تھوڑا سا پانی پیتی تو وہ مجھ سے دور ہو جاتا۔پھر میں اس کو پکڑ کر کچھ پیتی پھر وہ مجھ سے دور ہو جاتا اور یہ کافی دفعہ ہو تا رہا یہاں تک کہ میں سیر ہو گئی۔اچھی طرح پانی پی کے تسلی ہو گئی۔حضرت ام شریک نے باقی ماندہ پانی اپنے جسم پر اور کپڑوں پر پھینک لیا۔جب وہ لوگ اٹھے اور انہوں نے پانی کے آثار اور آپ کی اچھی حالت دیکھی تو انہوں نے یہ کہا کہ تو نے رسیاں وغیرہ کھول کر ہمارے پانی میں سے پیا ہے۔حضرت ام شریک نے جواباً انہیں کہا کہ