خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 596
خطبات مسرور جلد ہشتم 596 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 اظہار کرنا چاہئے ؟ کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔کس طرح دعا کرنی چاہئیے ؟ یہ سب باتیں ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی الہ تم نے بتائی ہیں۔اس بارہ میں ایک حدیث میں آتا ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علی کم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ فرماتے ہیں: جس بندے کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلَفَ لِى خَيْرًا مِنْهَا۔ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور اے میرے اللہ ! مجھے مصیبت میں اجر دے اور میرے لئے اس کے بعد اس سے بہتر عطا کر۔تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مصیبت کے بدلے میں اس کو اجر دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔( الجامع الشعب الایمان۔جلد 12۔صفحہ 182۔السبعون من شعب الایمان۔باب فی الصبر على المصائب۔حدیث 9247) اور یہ جو مصیبتیں یا تکالیف ہیں وہ ذاتی زندگی میں بھی ہیں ، جماعتی زندگی میں بھی ہیں، قومی زندگی میں بھی ہیں۔ہر جگہ یہی اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے ، ان تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے، صبر اور حوصلہ دکھاتے ہوئے، اس کی پناہ میں آتے ہوئے اس سے اجر مانگا جائے۔قف اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی کسی بھی قسم کے ابتلا اور مصیبت سے گزرنے والوں کے بارے میں یہی فرماتا ہے۔فرمایا: الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ( البقرة : 158-159) ان پر جب بھی کوئی مصیبت آئے تو گھبراتے نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی ہیں اور رحمت بھی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔پس یہ قرآنِ کریم کا بھی حکم ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا صبر اب میں اللہ تعالیٰ کی نظر میں اُن ہدایت یافتہ لوگوں کے کچھ واقعات پیش کروں گا جو آنحضرت صلی اللہ وسلم کا قرب پانے والے تھے اور آپ کی صحبت سے فیضیاب ہونے والے تھے اور آپ کی تربیت سے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور صبر کے اعلیٰ نمونے دکھائے۔ایک واقعہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جب مسلمان آزمائش میں ڈالے گئے تو حضرت ابو بکر بھی مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کے ارادے سے نکل پڑے۔جب آپ بَزكُ الْغِماد کے مقام پر پہنچے تو آپ کو قارہ قبیلے کا سردار ابن الدغنہ ملا۔اس نے پوچھا کہ اے ابو بکر ! آپ کا کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس پر ابو بکر نے کہا کہ میری قوم