خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 595

خطبات مسرور جلد ہشتم 595 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 مسلمان کو کوئی مصیبت، کوئی دکھ ، کوئی رنج و غم، کوئی تکلیف اور پریشانی نہیں پہنچتی یہاں تک کہ کانٹا بھی نہیں چھتا مگر اللہ تعالیٰ اُس کی تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔(مسلم۔کتاب البر والصلة - باب ثواب المومن فيما يصيبه من مرض او حزن۔۔۔حدیث: 6463) ایک لمبی روایت ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کے پسندیدہ اور نا پسندیدہ لوگوں کا ذکر ہے۔وہ پیش کرتا ہوں۔مطرف بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک حضرت ابو ذر کی ایک روایت پہنچی اور میں خواہش رکھتا تھا کہ ان سے ملاقات ہو جائے۔پھر جب میں ان سے ملا تو عرض کی کہ اے ابو ذر! مجھ تک آپ کی ایک روایت پہنچی ہے۔میں خواہش رکھتا تھا کہ آپ سے ملاقات ہو اور اس کے بارے میں آپ سے پوچھوں۔حضرت ابو ذر نے کہا۔اب مل لیا ہے تو پوچھو۔میں نے کہا مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی ہی کم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تین شخص ایسے ہیں جنہیں اللہ عز و جل پسند کرتا تھا اور تین شخص ایسے ہیں جنہیں اللہ عزوجل نا پسند کرتا ہے۔حضرت ابوذر نے کہا کہ ہاں اور مجھے خیال بھی نہیں آسکتا کہ میں اپنے خلیل صلی اللہ ہم پر جھوٹ بولوں۔یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔تو میں نے پوچھا کہ وہ تین شخص کون سے ہیں جنہیں اللہ عزو جل پسند کرتا ہے تو آپ نے فرمایا۔وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جنگ کے لئے نکلا اور اس کا مجاہد ہوتے ہوئے، اُس کا اجر خدا کے ہاں قرار دیتے ہوئے دشمن سے لڑائی کی یہاں تک کہ قتل ہو گیا۔اور تم اللہ عزوجل کی کتاب میں پاتے ہو کہ اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستے میں صف باندھ کر لڑتے ہیں۔اور وہ شخص جس کا ہمسایہ اسے تکلیف دیتا ہو اور وہ اس کی تکلیف پر صبر کرے اور اپنے آپ کو روکے رکھے یہاں تک کہ اللہ تعالی موت یا زندگی کے ذریعے اس کے لئے کافی ہو جائے۔اور ایسا شخص جو قوم کے ساتھ سفر پر ہو یہاں تک کہ نیند اور اونگھ انہیں بو جھل کر دے اور وہ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کریں اور وہ شخص اپنا وضو کرے اور نماز کے لئے کھڑا ہو جائے۔میں نے عرض کی کہ وہ کون سے تین شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ فخر و مباہات کرنے والا، تکبر کرنے والا اور تم اللہ عزو جل کی کتاب میں پاتے ہو اللہ یقیناً ہر سیخی کرنے والے اور فخر کرنے والے سے پیار نہیں کرتا۔“ اور وہ بخیل جو احسان کو جتانے والا ہو اور ایسا تاجر جو قسمیں کھا کھا کر بیچنے والا ہو۔(مسند احمد بن حنبل" مسند ابو ذر غفاری۔جلد 7 صفحہ 217۔حدیث نمبر 21863) اس میں جو تین پسندیدہ لوگ ہیں ان میں صبر کرنے والے کا بھی ذکر ہے۔جو صبر کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کو بہت پسندیدہ ہیں۔حضرت علی ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ایمان میں صبر کی حیثیت ایسی ہے جیسے کہ جسم میں سر کی۔جب صبر نہ رہا تو ایمان بھی نہ رہا۔(کنز العمال الكتاب الثالث فی الاخلاق قسم الافعال۔باب الصبر وفضلہ حدیث : 8627) ایک مومن کو ہمیشہ تلقین کرتے ہیں کہ ہمیں کس طرح اپنی تکلیفوں اور دکھوں میں اپنے جذبات کا