خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 593
خطبات مسرور جلد ہشتم 593 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 نومبر 2010 دنیا میں کون شخص ہے جس سے چھوٹی موٹی غلطیاں اور گناہ سرزد نہ ہوتے ہوں۔کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہیں آنا چاہتا۔یقینا ہر ایک اس پناہ کی خواہش رکھتا ہے۔تو بیٹیوں والوں کو یہ خوشخبری ہے کہ مومن بیٹیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائے گا۔بعض مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کو حل کرنا اور اس معاشرے میں بھی ہمیں بیٹیوں کی وجہ سے بہت سارے مسائل نظر آتے ہیں ان کو برداشت کرنا اور کسی بھی طرح بیٹیوں پر یہ اظہار نہ ہونے دینا یا ماؤں کو بیٹیوں کی وجہ سے نشانہ نہ بنانا، یہ ایک مومن کی نشانی ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر یہ باتیں جو ہیں اس کے اور آگ کے درمیان روک بن جاتی ہیں۔پھر ایک حدیث میں ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو بڑے زود رنج ہوتے ہیں۔ذرا ذراسی بات پر ان میں ناراضگی ہو جاتی ہے۔اور اسی وجہ سے پھر اپنے اس معاشرے میں گھلنا ملنا پسند نہیں کرتے۔یحیی بن وثاب نبی کریم صلی اللی علم کے اصحاب میں سے ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ای ایم نے فرمایا کہ وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا رہتا ہے اور ان کی تکلیف دہ باتوں پر صبر کرتا ہے، اُس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ تو لو گوں سے میل ملاپ رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیف دہ باتوں پر صبر کرتا ہے۔(سنن ترمندی - کتاب صفة القيامة والرقائق والورع باب 120/55 حدیث : 2507 پس اس میل ملاپ سے ہو سکتا ہے کسی کے اچھے اخلاق اور صبر سے دوسرے متأثر ہو جائیں، نصیحت حاصل کر جائیں، معاشرے میں بہتری پیدا ہو جائے۔لوگ اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور پھر اس طرح ملنے جلنے سے کوئی کسی دوسرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جائے۔پھر انسان کے اپنے اندر صبر کی وجہ سے جو وسعتِ حوصلہ پیدا ہوتی ہے وہ اسے مزید نیکیوں کی طرف لے جاتی ہے، مزید نیکیوں کا باعث بنتی ہے۔اور پھر یہ ایک نصیحت بھی اس میں آگئی کہ صبر جو ہے اس کی عادت انسان کو ڈالنی چاہئے۔ذرا ذراسی باتوں پر آپس کے جھگڑے جو بے صبری کی وجہ سے ہوتے ہیں اُن سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسی وسعتِ حوصلہ کا ذکر فرماتے ہوئے ایک جگہ آنحضرت صلی ا م نے یوں نصیحت فرمائی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی یم نے فرمایا کہ طاقتور پہلوان وہ شخص نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے۔اصل پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابورکھتا ہے۔( صحیح بخاری کتاب الادب۔باب الحذر من الغضب حدیث : 6114) پس خدا اور رسول صلی علیم کے نزدیک پہلوان وہ ہے جو غصے پر قابو پانے والا ہے۔اور یہی عمل صالح ہے جو ایک مومن کو خدا تعالیٰ کا قرب دلاتا ہے، اس کے قریب کرتا ہے۔آنحضرت صلی علیہ کم کا اپناعظیم اُسوہ اس صبر کے اظہار میں کیسا تھا؟ اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی الی نام نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہیں مارا۔نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو ،