خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 579 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 579

خطبات مسرور جلد ہشتم 579 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 پیغمبر خدا صلی علیکم نے فرمایا کہ حسب مقدور کچھ دینا چاہئے اور آپ کی منشاء تھی کہ دیکھا جاوے کہ کون کس قدر لاتا ہے۔ابو بکڑ نے سارا مال لا کر سامنے رکھدیا۔اور حضرت عمرؓ نے نصف مال۔آپ نے فرمایا کہ یہی فرق تمہارے مدارج میں ہے۔۔۔فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو پہلے ہی سکھایا گیا تھا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : 93) اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکید اور اشارہ ہے۔یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے اس کو نباہنا چاہیئے۔اس کے بر خلاف کرنے میں خیانت ہوا کرتی ہے۔۔۔فرمایا: ” ایک آدمی سے کچھ نہیں ہوتا۔جمہوری امداد میں برکت ہوا کرتی ہے۔بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس وغیرہ لگا کر وصول کرتے ہیں۔اور یہاں ہم رضا اور ارادہ پر چھوڑتے ہیں۔چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور خلوص کا کام ہے “۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 358 تا 361 جدید ایڈیشن) فرمایا کہ: " تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے۔اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں اُن کیلئے موقع ہے کہ اپنے جو ہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دیگا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی۔اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے “۔فرمایا: ”۔۔وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کرینگے اور اُن پر مصائب کے زلزلے آئیں گے۔اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا اُن سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی۔وہ آخر فتحیاب ہونگے اور برکتوں کے دروازے اُن پر کھولے جائیں گے“۔انشاء اللہ تعالیٰ۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309-308) اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توقعات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو فتوحات اس نے مقدر کی ہیں ان کو بھی ہم دیکھنے والے ہوں۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا: کیونکہ وقت بدل گیا ہے۔عصر کا پہلا وقت بھی شروع ہو جائے گا اس لئے نماز عصر بھی ساتھ ہی جمع ہو گی۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 48 مورخہ 26 نومبر تا 2 دسمبر 2010 صفحہ 5 تا 9)