خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 41
خطبات مسرور جلد ہشتم 41 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2010ء بمطابق 22 صلح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) الصلوة تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت صلی علیکم کے مقام اور کمال نور کو بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ ا والسلام فرماتے ہیں کہ ”۔۔عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نورانیت پر واقعہ کہ الہام سے پہلے ہی خود بخود روشن ہونے پر مستعد تھے )۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 195۔حاشیہ نمبر 11) کہ عقلی لحاظ سے بھی اور باقی اخلاق کے لحاظ سے بھی آپ صلی للہ ہم اس مقام پر واقع تھے جس کی کوئی انتہا نہیں اور ہر چیز ، ہر اخلاق، ہر عمل جو تھا اس میں ایک نور بھرا ہوا تھا اور روشنی خود بخود نظر آتی تھی۔قرآن کریم کے فرمان نُورٌ عَلَى نُورٍ ( النور :36) نور فائض ہو انور پر ، کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ( یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاء علی الی ہم میں کئی نور جمع تھے سو ان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا“۔د (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 195۔حاشیہ نمبر (11) ( نوروں کا مجموعہ بن گیا)۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " قرآن شریف میں آنحضرت صلی للی کم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے“۔(براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 196۔حاشیہ نمبر 11) ایک جگہ نور اور سراج منیر کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”آپ کا نام چراغ رکھنے میں ایک اور باریک حکمت یہ ہے کہ ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو سکتے ہیں اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں آتا۔چاند سورج میں یہ بات نہیں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی الم کی پیروی اور اطاعت کرنے سے ہزاروں لاکھوں انسان اس مر تبہ پر پہنچیں گے اور آپ کا فیض خاص نہیں بلکہ عام اور جاری ہو گا۔غرض یہ سنت اللہ ہے کہ ظلمت کی انتہا کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بعض صفات کی