خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 557
خطبات مسرور جلد ہشتم 557 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 اور وہ ایسی برائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف برائی ہی نہیں بلکہ بہت بڑا نا قابل معافی گناہ ہے۔جیسا کہ ہم نے، یہ آیت جو میں نے تلاوت کی، اس میں دیکھا۔اللہ تعالیٰ کی توحید کے مقابل پر کسی بھی قسم کا چاہے وہ معمولی سا بھی اظہار ہے جس سے خدا تعالیٰ کی توحید پر حرف آتا ہو، اللہ تعالیٰ کو قابل قبول نہیں ہے۔پس ایک مسلمان جو توحید پر قائم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ، جو لا الهَ اِلَّا اللہ پڑھتا ہے، اسے توحید کی باریکی کو سمجھتے ہوئے، شرک کی باریکی کو سمجھتے ہوئے اس ترقی یافتہ دنیا میں جہاں خدا تعالیٰ کی توحید کا ذرہ برابر خیال نہیں رکھا جاتا، بڑا بیچ بیچ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔اور خاص طور پر ہم احمدی مسلمانوں کو تو یہ ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہم نے تو زمانے کے امام کی بیعت ہی اس شرط پر کی ہے ، اور اس شرط کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب سے پہلی شرط کے طور پر رکھا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو ، شرک سے مجتنب رہے گا“۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159 اشتہار مورخہ 12 جنوری1889) پس یہ احمدیت میں داخل ہونے کے لئے، حقیقی اسلام میں داخل ہونے کے لئے پہلا عہد ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسلمان تو پہلے ہی کلمہ لا اِلهَ اِلَّا اللهُ پڑھتے ہیں۔گو وہ یہ کلمہ پڑھتے ہیں لیکن احمدیت نے جہاں مسلمانوں کو حقیقی اسلام کی طرف لانا ہے وہاں غیر مسلموں کو ، دوسرے مذاہب والوں کو بھی، لامذہبوں کو بھی حقیقی اسلام کی طرف لے کر آنا ہے۔اس لئے شرک کی جو شرط ہے وہ پہلی شرط ہے کہ شرک کبھی نہیں کرے گا۔لا الہ إِلَّا اللہ کا کلمہ جو ایک مسلمان پڑھتا ہے، گو بڑی شدت سے اور بڑے زور سے شرک کی نفی کرتا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے باوجو د مسلمانوں میں اس شرک کا جو شرک خفی کہلاتا ہے، اتنالحاظ نہیں رکھا جاتا۔کہنے کو تو یہ بڑی آسان بات ہے کہ مسلمانوں میں سے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے والوں کے لئے یہ کوئی بڑی شرط نہیں ہے۔لیکن اگر غور کریں تو جیسا کہ میں نے کہا کہ مسلمانوں میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جو ظاہری شرک نہ سہی لیکن شرک خفی میں مبتلا ہیں۔قبروں کی پوجا اگر ایک طبقہ ماتھا ٹیک کر کرتا ہے، قبروں پر جا کر سجدے کرتے ہیں تو دو سر اجو اگر چہ سجدہ تو نہیں کرتا لیکن چڑھاوے چڑھا کر دل میں خفی شرک لئے ہوئے ہوتا ہے۔تیسرا اگر قبروں پر دعا کر رہا ہے تو دعا کرتے ہوئے بجائے خدا کے اس پیر فقیر سے جس کی قبر پر وہ دعامانگ رہا ہوتا ہے ، اُس سے مانگ رہا ہو تا ہے۔اور ایسے تو کئی واقعات ہیں کہ عورتیں کہتی ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ سے مانگا کہ ہمیں بیٹا دے تو بیٹا پیدا نہیں ہوا۔لیکن جب داتا دربار میں جا کر داتا صاحب سے مانگا تو بیٹا پیدا ہو گیا۔اور عور تیں کیونکہ اکثر ایمان میں بھی کمزور ہوتی ہیں اور عموماً مسلمانوں میں نمازوں اور عبادتوں کی طرف بھی رجحان نہیں رہا اس لئے عور تیں خاص طور پر اور مرد بھی عموماً ایسے واقعات ہونے پر خدا تعالیٰ پر ایمان میں کمزوری دکھاتے ہیں۔بعض دفعہ (ایمان) بالکل ہی