خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 549
خطبات مسرور جلد ہشتم 549 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 مولانا محمد صدیق صاحب امر تسری جو خود بھی ایک دفعہ مولوی نذیر احمد علی صاحب کے ساتھ تھے، بیان کرتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے دوران 1940ء میں ایک روز حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب اور خاکسار (مولوی صدیق صاحب) نے سیر الیون کے قاصری نامی ایک تجارتی قصبے میں تبلیغ کے لئے پروگرام بنایا۔وہ فری ٹاؤن سے چالیس میل دور تھا اور دریا کے دوسرے کنارے پر تھا اور کشتی کے ذریعے وہاں جانا پڑتا تھا۔حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب پہلے بھی وہاں اسلام کا پیغام پہنچا چکے تھے۔اور اس تبلیغ کی وجہ سے مخالفت بڑھ گئی تھی۔کہتے ہیں ہمارا یہ دوسرا دورہ تھا۔اکثر وہاں کے لوگ فولانی قبیلے کے ہیں جنہیں اپنے اسلام پر بڑا ناز ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور صحیح مسلمان ہیں۔اپنا تعلق نسل کے لحاظ سے عرب لوگوں سے ظاہر کرتے ہیں۔بہر حال یہ لوگ وہاں گئے۔ان فولانیوں نے اور مسلمانوں نے جھوٹی، من گھڑت باتیں لوگوں میں پھیلا دی تھیں اس کی وجہ سے وہاں لوگوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ اگر ہم دوبارہ آئے تو ہمیں وہاں ٹھہرنے کے لئے جگہ نہیں دیں گے۔اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف تبلیغ اسلام تھا۔احمدیت کا پیغام پہنچانا، اسلام کا پیغام پہنچانا تھا اور اس کی حقیقی روح سے آگاہ کرنا تھا۔غیر مسلموں اور عیسائیوں کو با قاعدہ تبلیغ کرنا تھا۔اس لئے ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ وہاں جا کر چند دن رہ کر اپنے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں ان کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔بہر حال وہ کہتے ہیں کہ ہم بذریعہ کشتی روانہ ہوئے اور مغرب کے وقت وہاں قاصری گاؤں میں پہنچ گئے۔چند دن ٹھہرنے کا پروگرام تھا اور لیکچروں کا انتظام کرنا تھا۔کہتے ہیں جب ہم کشتی سے اترے تو سیدھے چیف کے بنگلے میں گئے ، کیونکہ چیف کو اس زمانے میں حکومت کی طرف سے مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے کے لئے ایک گرانٹ ملا کرتی تھی۔لیکن بہر حال ہمیں غلط طور پر بتایا گیا یا حقیقت تھی کہ چیف اپنے فارم پر گیا ہوا ہے اور وہ ابھی تک وہاں سے واپس نہیں آیا اور جو باقی ذمہ دار لوگ تھے وہ سب بڑی بے رخی اور مخالفت کا اظہار کر رہے تھے۔بعض جو ان کے ہمدرد تھے وہ بھی دوسروں کی مخالفت سے مرعوب ہو گئے تھے۔اور کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں تھا۔ہمارے ساتھ چند افریقن احمدی طالب علم تھے۔ان کو تو افریقن ہونے کی وجہ سے کہیں جگہ مل گئی اور وہ چلے گئے اور ہمار ا سامان بھی ساتھ لے گئے۔اور ہم وہیں گاؤں کے باہر جنگل میں پھر رہے تھے۔بعض لبنانی تاجروں کے ساتھ رابطہ ہوا جن کی دکانیں وہیں دریا کے کنارے پر تھیں۔بہر حال ایک لبنانی مسلمان جو تھا اس سے ہم نے کچھ عربی میں باتیں کیں ، ہماری عربی سے متاثر ہوا اور اپنے ساتھ لے گیا اور وہاں تبلیغ شروع ہو گئی۔اور اس نے پھر زور دے کے ہمیں رات کا کھانا بھی کھلایا۔لیکن رات کو ہم دس بجے لٹریچر وغیرہ کا ان سے وعدہ کر کے وہاں سے اٹھ کر آگئے۔نہ اس نے پوچھا، نہ ہم نے بتایا کہ ہمارے پاس تو رات کو ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں۔رات ہم پھر دریا کے کنارے آکر بیٹھ گئے اور وہ سارا علاقہ زہریلے سانپوں اور جنگلی جانوروں سے بھرا پڑا ہے۔دریا کے کنارے مگر مچھ ہیں وہ بھی حملے کرتے رہتے تھے۔اکثر وارداتیں ان کی