خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 535

خطبات مسرور جلد ہشتم 535 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 والوں کے زمرہ میں شامل ہونا بھی نبی کے سچے پیروکاروں کا کام ہے۔پس ایک پیغام کے بعد دوسر ا پیغام اس لئے بھی ہو نا ضروری ہے کہ نبی کے بچے پیروکاروں کا یہ کام ہے تاکہ دنیا جو غلط رستے پر چلی ہوئی ہے وہ ان غلط راستوں سے بچ جائے۔اور یہی الہی جماعتوں کا کام ہے کہ دنیا کو آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچائیں۔اس کے لئے ہمیشہ کوشش ہوتی رہنی چاہئے۔پیغام کے دو حصے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔عُذرا او نن را۔حجت کے طور پر یا تنبیہ اور ہوشیار کرنے کے لئے۔پس اگر نہ مانیں تو پھر اللہ تعالی کی پکڑ بھی آسکتی ہے۔اس آیت اور اس سے پہلی آیت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ نبی کے نشان مومن اور کافر کے درمیان فرق کر دیتے ہیں۔فرمایا کہ اس وقت لوگوں کو سمجھ آجائے گی کہ حق کس امر میں ہے۔آیا اس امام کی اطاعت میں یا اس کی مخالفت میں؟ یہ سمجھ آنا بعض کے لئے صرف حجت کا موجب ہو گا۔عُذراً یعنی مرتے مرتے ان کا دل اقرار کر جائے گا کہ ہم غلطی پر تھے اور بعض کے نزدیک نُخرا یعنی ڈرانے کا موجب ہو گا کہ وہ تو بہ کر کے بدیوں سے بعض آویں۔پس نبی کی سچائی تو بعض لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے لیکن بعض دفعہ ڈھٹائی اور ضد اور آنا آڑے آجاتی ہے۔کچھ تو اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دیں گے۔اللہ پوچھے گا کہ کیوں نہیں مانا؟ اور کچھ کو تو بہ کی توفیق مل جائے گی اور مل جاتی ہے۔لیکن بعض دفعہ اگر اللہ تعالیٰ رسی دراز کرتا ہے اور وہ تو بہ نہیں کرتے اور اپنی حرکتوں سے بعض نہیں آتے تو پھر ان لوگوں کے انجام کے بارہ میں بھی متعدد جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اِنَّمَا تُوعَدُونَ لَواقِع کہ تم جس بات کا وعدہ دیئے جا رہے ہو یقینا وہ ہونے والی ہے۔یعنی یہ انذار کی خبر اگر نہ مانو گے تو انذار ہے۔اور انذار کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ (نشان) ظاہر فرماتا ہے اور اگلے جہان میں بھی سزا کی خبر دیتا ہے۔اور نبی اور اس کی جماعت کے لئے یہ وعدہ ہے کہ آخری فتح اور غلبہ ان کا ہے۔یعنی تُوعَدُونَ کواقع میں دو پیغام ہیں۔مخالفین کے لئے بھی کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہو گے ، اس دنیا میں عذاب کی صورت میں یا مرنے کے بعد۔اور نبی اور ان کی جماعت سے جو غلبہ کا وعدہ ہے اس کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ بھی انشاء اللہ پورا ہو گا۔پس اللہ تعالیٰ نہ ماننے والوں کو فرماتا ہے کہ اگر تم یہ کہو گے، اللہ کے پاس حاضر ہو کر یہ عرض کرو گے کہ ہمیں پتہ نہیں چلا، ہم سمجھ نہیں سکے، ہمیں واپس بھیج دے تو ہم اس نبی کو مان لیں گے ، تیرے فرستادے کو مان لیں گے تو اللہ فرمائے گا اب نہیں۔ایک دفعہ مرنے کے بعد کوئی واپس نہیں لوٹتا۔اس کے لئے جو انذار تمہیں دیا گیا تھا اب وہی ہے۔پس یہ ان لوگوں کے لئے بڑا خوف کا مقام ہے جو بلا سوچے سمجھے مخالفت میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ زمانہ جس میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ فَإِذَا النُّجُومُ طمست کہ جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔یعنی نام نہاد علماء علم سے بے بہرہ ہو جائیں گے۔زمانہ کے امام کا انکار کرنے کی وجہ سے اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی اس روشنی سے محروم کر دیں گے۔طمست کا مطلب