خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 37
خطبات مسرور جلد ہشتم 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی بن رہے ہوں گے۔اور آج احمدی سے بڑھ کر کون ایسے معاشرہ کا نعرہ لگاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور دوسروں کے حقوق قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہوں۔آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہو ا و ہوس سے باز آجائے گا۔آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا۔آج احمدی کے علاوہ کس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر ایک راہ میں دستور العمل بنائے گا۔پس جب احمدی ہی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کریم کے نور سے فیض پانے کے لئے زمانہ کے امام کے ہاتھ پر یہ عہد کیا ہے جو شرائط بیعت میں داخل ہے تو پھر اپنے عہد کا پاس کرنے کی ضرورت ہے۔اس عہد کی پابندی کر کے ہم اپنے آپ کو جکڑ نہیں رہے بلکہ شیطان کے پنجے سے چھڑا رہے ہیں۔خدا اور اس کے رسول کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے تحفظ کے سامان کر رہے ہیں۔اپنی فہم و فراست کو جلا بخش رہے ہیں۔اپنی عفت و پاکیزگی کی حفاظت کر رہے ہیں۔اپنی حیا کے معیار بلند کر رہے ہیں۔صبر اور قناعت کی طاقت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنے اندر زہد و تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کر رہے ہیں۔اپنی امانت کے حق کی ادائیگی کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنے کے معیار حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں تا کہ اپنے مقصد پیدائش کو حاصل کر سکیں۔پس اگر اندھیروں سے نکلنا ہے اور نور حاصل کرنا ہے اور زمانہ کے امام کی بیعت کا صحیح حق ادا کرنا ہے تو دنیا داری کی باتوں کو چھوڑنا ہو گا۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی۔اپنے آپ کو اعلیٰ اخلاق کی طرف لے جانے کے لئے جد وجہد کرنی ہو گی۔حیا کا معیار بلند کرنے کا میں نے ذکر کیا ہے۔حیا بھی ایک ایسی چیز ہے جو ایمان کا حصہ ہے۔آج کل کی دنیاوی ایجادات جیسا کہ میں نے شروع میں بھی ذکر کیا تھا، ٹی وی ہے، انٹر نیٹ وغیرہ ہے اس نے حیا کے معیار کی تاریخ ہی بدل دی ہے۔کھلی کھلی بے حیائی دکھانے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ بے حیائی نہیں ہے۔پس ایک احمدی کے حیا کا یہ معیار نہیں ہونا چاہئے جو ٹی وی اور انٹرنیٹ پر کوئی دیکھتا ہے۔یہ حیا نہیں ہے بلکہ ہوا و ہوس میں گرفتاری ہے۔بے حجابیوں اور بے پردگی نے بعض بظاہر شریف احمدی گھرانوں میں بھی حیا کے جو معیار ہیں الٹا کر رکھ دیئے ہیں۔زمانہ کی ترقی کے نام پر بعض ایسی باتیں کی جاتی ہیں، بعض ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں جو کوئی شریف آدمی دیکھ نہیں سکتا چاہے میاں بیوی ہوں۔بعض حرکتیں ایسی ہیں جب دوسروں کے سامنے کی جاتی ہیں تو وہ نہ صرف ناجائز ہوتی ہیں بلکہ گناہ بن جاتی ہیں۔اگر احمدی گھرانوں نے اپنے گھروں کو ان بیہودگیوں سے پاک نہ رکھا تو پھر اُس عہد کا بھی پاس نہ کیا اور اپنا ایمان بھی ضائع کیا جس عہد کی تجدید انہوں نے اس زمانہ میں زمانے کے امام کے ہاتھ پہ کی ہے۔