خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 529
خطبات مسرور جلد ہشتم 529 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 لیا۔لیکن جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ بعض باتیں میرے اس دنیا سے جانے کے ساتھ مقدر ہیں یعنی اس کے بعد ہوں گی جو جماعت کی تائید میں ہوں گی، جن کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہوا ہے۔اور قدرت ثانیہ جو خلافت کا دور ہے، ان میں تم ان باتوں کو پورا ہوتا دیکھو گے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے جو یہ وعدہ فرمایا تھا کہ یہ باتیں جو اب کی جارہی ہیں بعض ان میں سے بعد میں پوری ہوں گی۔ان کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وسائل اور ذرائع کو اس زمانہ کے مطابق مہیا فرما دیا اور فرما رہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ بعض کام اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی زندگیوں میں پورے فرماتا ہے اور بعض ان کے جانے کے بعد پورے فرماتا ہے۔لیکن انبیاء سے جو وعدہ ہو تا ہے، جو الہی تقدیر کا حصہ ہوتا ہے وہ ضرور پورا ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی ال یکم کو بھی فرمایا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِمَّا نَذْهَبَنَ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ (الزخرف:42) پس اگر ہم تجھے لے بھی جائیں تو ان سے ہم بہر حال انتقام لینے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ جب نبی کے مخالفین کے بارہ میں کچھ بتاتا ہے تو وہ ضرور پورا ہوتا ہے۔اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں، اگر ان کے لئے سزا مقدر ہو، اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لینا ہو تو وہ ضرور لیا جاتا ہے ، چاہے نبی کی زندگی میں پورا ہو یا بعد میں۔اسی طرح اگر کسی کے بارہ میں خوشخبری ہے ، فتوحات کی خبریں ہیں، اگر اس کی اطلاع اللہ تعالیٰ دیتا ہے یا اپنے نبی سے الفاظ کہلواتا ہے تو وہ بھی کچھ زندگی میں اور کچھ بعد میں پوری ہوتی ہیں۔چنانچہ جب آنحضرت صلیم نے سراقہ کو کسری کے سونے کے کنگن کی خوشخبری دی تھی تو اصل میں اس میں ایران کے اسلام کے جھنڈے تلے آنے کی خبر تھی جو حضرت عمر کے زمانہ میں پوری ہوئی اور سراقہ کو کنگن پہنائے گئے۔پس نیکی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق پہلے آہستہ آہستہ پھیلتی ہے اور پھر دائرہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے۔نبی کی فتوحات آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہیں اور پھر دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔اور جب دائرہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر بھی ان کو پورا کرنے کے لئے پہلے سے تیز اور بہتر حالات پیدا کر دیتی ہے۔اور ذرائع اور وسائل مہیا ہو کر پھر ان میں تیزی آتی جاتی ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کوئی محدود طاقتوں والا نہیں ہے۔اگر وہ چاہے کہ نبی کے زمانے میں بھی نبی سے کئے گئے تمام وعدے اور فتوحات کو اس زمانہ میں اور اس کی زندگی میں پورا کر دے تو کر سکتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بعد میں آنے والے بھی ان فتوحات اور انعامات سے حصہ لینے والے بن جائیں۔پس اس زمانہ کے تیز وسائل ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ان کا صحیح استعمال کریں۔انہیں کام میں لائیں اور صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زمانہ کے امام کے معین و مددگار بن جائیں۔اور مدد گار بن کر اس کے مشن کو پورا کرنے والے ہوں۔تیز رفتار وسائل اس طرف توجہ مبذول کروا رہے ہیں کہ ہم اس تیز رفتاری کو خد اتعالیٰ کا انعام سمجھتے ہوئے اس کے دین کے لئے استعمال کریں۔