خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 528

528 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 اور دیکھ چکے ہیں اور باقی انشاء اللہ پوری ہونے والی ہیں وہ بھی دیکھیں گے۔یہ اُس خدا کا کلام ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے ، جو سب سیچوں سے سچا ہے۔پس ہمارا خداوہ خدا ہے جو قادر و توانا ہے۔جو اپنی عظیم تر قدرت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مقدر انقلابات کو بھی سچا کر کے دکھا رہا ہے اور دکھائے گا۔اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم اس انقلاب کا حصہ بننے کے لئے، ان نعمتوں سے حصہ لینے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے لئے مقدر کی ہیں اپنی کوششوں کو بھی حرکت میں لائیں۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ بننے کے لئے ہمیں اپنے اندر بھی انقلاب پیدا کرنا ہو گا، جس سے ہم میں سے ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کا حصہ بن کر ان انعامات کو حاصل کرنے والا بن جائے جو آپ علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ نے مقدر کر دیئے ہیں۔الہی تائیدات کے نشانات پس اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنی تائیدات کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں جو نشانات دکھائے ہیں، دکھا رہا ہے اور دکھائے گا انشاء اللہ تعالیٰ، ان کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے وَالْمُرْسَلَتِ عُرُفًا فرمایا کہ فرشتوں کے ذریعہ جو تائیدات ہو رہی ہیں، ان کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں شروع ہوا۔یہ پیغام جو نیکی، پاکیزگی، اعلیٰ اخلاق اور تقویٰ کے پھیلانے اور قائم کرنے کا پیغام تھا۔یہ پیغام ان نشانات اور تائیدات کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے ذریعہ بھی پھیلا۔وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو وہ نہ صرف یہ کہ قابل پذیرائی نہ تھا۔اس کو پوچھا نہیں گیا بلکہ مخالفت کے شدید دور سے یہ پیغام گزرا۔مخالفتوں کے طوفان کھڑے کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ کے پے در پے نشانات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلائل اور براہین جو خود خدا تعالیٰ کے نشان کا درجہ رکھتے تھے اور آپ کے ماننے والوں کی تبلیغ، یہ سب ایسی چیزیں تھیں جنہوں نے تمام مخالفتوں کے باوجود آہستہ آہستہ نیک فطرتوں کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل کرنا شروع کر دیا۔اور آپ کی زندگی میں جماعت لاکھوں کی تعداد تک پہنچ گئی۔پس خدا تعالیٰ جب اپنے انبیاء بھیجتا ہے تو ان کے پیغام کو پہلے آہستہ آہستہ پھیلاتا ہے اور پھر وہ بڑی تیزی سے ضرب کھاتے چلے جاتے ہیں۔پہلے پیغام پہنچانے کے وسائل اور ذرائع کم ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ جس تقدیر کو کرنے کا اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ ان وسائل اور ذرائع میں بھی اضافہ اور تیزی فرما دیتا ہے۔پس ایک تو نشانات میں اضافہ ہوتا ہے۔جیسا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں دیکھتے رہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جو بات بھی الہام یار و یا صادقہ کی صورت میں بتاتارہا ان میں بھی آپ کے ابتدائی دور میں اور ہر آنے والے وقت میں اضافہ ہو تا رہا جس کے اپنے اور غیر کثرت سے گواہ ہیں۔مثلاً آپ نے اپنی زندگی میں طاعون کی مثال دی ہے کہ شروع شروع میں یہ نشان کے طور پر ظاہر ہوا۔بہت معمولی نش ان تھا، تھوڑے تھوڑے علاقوں میں ظاہر ہوا۔اور پھر یہ پھیلتا چلا گیا اور پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے