خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 512

خطبات مسرور جلد ہشتم 512 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم اکتوبر 2010 لئے پاک نمونہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اولاد کو بھی دعاؤں کا وارث بناتے ہوئے ان کے نیک مستقبل کی حفاظت کا سامان بھی کرتی چلی جائے گی۔نمازوں کا حق ادا کرنا کیا ہے ؟ بہت سے لوگ جو خاص طور پر انصار اللہ کی تنظیم میں پہنچے ہوئے ہیں نمازیں تو پڑھنے والے ہیں لیکن ان کی اولادیں ان سے نالاں ہیں۔اپنی نمازوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی نمازوں کی نگرانی بھی ماں باپ کا فرض ہے۔لیکن اس فرض کے ادا کرنے کے لئے بچوں کی بچپن سے تربیت اور نگرانی کی ضرورت ہے۔بچپن میں جب اہمیت کا نہ بتایا جائے تو بچہ جب جوانی کی عمر میں قدم رکھتا ہے خاص طور پر لڑکے تو پھر ان پر بعض والدین ضرورت سے زیادہ سختی کرتے ہیں۔کئی بچے مزید بگڑ جاتے ہیں۔پھر ماں باپ کو شکوہ ہوتا ہے کہ بچے بگڑ رہے ہیں۔پھر بعض دفعہ ایسی صورت ہوتی ہے کہ نمازوں کی ادا ئیگی میں تو بظاہر باپ بڑا اچھا ہوتا ہے لیکن بیوی اور بچوں کے ساتھ اس کے سلوک کی وجہ سے بچے نہ صرف باپ سے دور ہٹ جاتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ کو اس کی نمازوں نے اتنا خشک مزاج اور سخت طبیعت کا کر دیا ہے اور وہ نمازیں پڑھنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔یا اگر انکاری نہیں ہوتے تو نہ پڑھنے کے سو بہانے تلاش کرتے ہیں۔پس نمازوں کی حفاظت اور اس کا حق ادا کرنا یہ بھی ہے کہ ایسی نمازیں ادا ہوں جو ہر قسم کے اخلاق کو مزید صیقل کرنے والی ہوں۔بیویوں کے بھی حقوق ادا ہو رہے ہوں اور بچوں کے بھی حقوق ادا ہو رہے ہوں۔چالیس سال کی عمر جیسا کہ میں نے کہا بڑی چھنگی کی عمر ہے لیکن اس عمر میں اگر ہم جائزے لیں تو بہت سے ایسے لوگ نکل آئیں گے جو اپنی نمازوں کی بھی حفاظت نہیں کرتے۔اپنے فرائض کو ادا نہیں کر رہے ہوتے۔تو پھر اپنے بچوں سے کس طرح امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ نیکیوں پر قائم ہوں۔یا ان کی کیا ضمانت ہے کہ وہ احمدیت کے ساتھ جڑے رہیں گے۔ہم اپنے شہداء کا ذکر سنتے ہیں۔ایک چیز خصوصیت سے ان میں نظر آتی ہے۔عبادت اور ذکر الہی کی طرف توجہ۔جس طبقہ کے لوگ بھی تھے ان کی اس طرف توجہ تھی۔اور اپنے بچوں سے انتہائی پیار کا تعلق اور ان کو دین سے جوڑے رکھنا۔اور بچوں پر بھی ان کی باتوں کا ایک نیک اثر تھا۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو انصار اللہ ہونے کا حق ادا کرنے والے ہیں۔پس میں پھر انصار اللہ سے کہتا ہوں کہ اگر وہ انصار اللہ کا حق ادا کرنے والے بننا چاہتے ہیں تو اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کی نہ صرف خود حفاظت کریں بلکہ اس کا حق اپنی نسلوں میں عبادت کرنے والے پیدا کر کے ادا کریں۔پھر آپ نے اپنی شرائط بیعت میں اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ فرائض نمازوں کے ساتھ تہجد اور نوافل کی طرف بھی توجہ دو۔پینسٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ کر تو شاید ایک تعداد تہجد پڑھتی بھی ہو اور ان کو خیال بھی آ جاتا ہو۔لیکن انصار کی جو ابتدائی عمر ہے اس میں بھی تہجد کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یقیناً ایک تعداد ہے جو تہجد کا التزام کرنے والی ہے۔بلکہ خدام میں بھی ہیں۔لیکن انصار میں یہ تعداد