خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 511

خطبات مسرور جلد ہشتم 511 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم اکتوبر 2010 مسیح موسوی کے حواریوں کا جو اثر تھا اس معیار تک قائم نہیں رہا جہاں نسلاً بعد نسل وہ موحدین پیدا کرتے چلے جاتے، اس لئے کچھ عرصے کے بعد ان کی نسلیں شرک کے پھیلانے کا باعث بن گئیں۔اس لئے کہ انہوں نے تعلیم پر عمل نہیں کیا اور ان کے ایمانوں میں کمزوری پیدا ہوتی چلی گئی۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق آہستہ آہستہ کم ہو گیا اور دنیا داری ان کا مقصود اور مطلوب ہو گئی۔پس مسیح محمدی کے غلاموں نے خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق کو نہ اپنی ذات میں کم ہونے دینا ہے نہ اپنی نسلوں میں کم ہونے دینا ہے، ورنہ پہلے حواریوں کی طرح یا ان کی نسلوں کی طرح ایمانی کمزوری پیدا ہوتے ہوتے شرک کی حالت پیدا ہو جائے گی۔اور اب دیکھ لیں جو دوسرے مسلمان ہیں ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو مسلمان کہلانے کے باوجود قبروں اور پیروں اور اس قسم کے شرکوں میں مبتلا ہوئے ہوئے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے ہمیں حقیقی اسلامی تعلیم بتا کر اس قسم کے شرکوں سے محفوظ رکھا۔پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی دو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں اعلیٰ اخلاق اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں ہر احمدی کو اور جماعت میں شامل ہونے والے کو یہ فرمایا کہ اگر میری بیعت میں آنا چاہتے ہو تو شرک سے بیچنے کے بعد یہ عہد کرو کہ بلاناغہ پنج وقت نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتے رہو گے۔پس ہمیں دیکھنا ہے کہ خدا نے نمازوں کے بارے میں کیا حکم دیا ہے۔سورۃ فاتحہ میں فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی دعا سکھائی کہ تیرے حکم کے مطابق تیری عبادت کرنے کے لئے تیری مدد کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر ہم کچھ نہیں۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ، تجھ سے مدد بھی مانگتے ہیں۔پس جب ایک عاجزی کے ساتھ عبادت کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے کی طرف توجہ رہے گی تو پھر نماز کا يُقِيمُونَ الصَّلوةَ (البقرة:4) کا حکم بھی سامنے آجائے گا اور پھر نمازوں کے قیام کے نمونے قائم ہوں گے۔یعنی پانچ وقت نمازوں کے اوقات میں نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ ہو گی۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔حفظوا عَلَی الصَّلَواتِ وَالصَّلَوَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قنِتِينَ (البقرة:239) کہ نمازوں اور خصوصاً در میانی نماز کا خیال رکھو۔پس نمازوں کا خیال رکھنا اور اس کی نگرانی کرنا ایک مومن پر فرض ہے۔اور خاص طور پر وہ نماز جو ہمارے کاموں کے دوران، ہماری مصروفیات کے دوران، ہماری تھکاوٹ اور نیند کے اوقات میں آتی ہے۔اس کا خیال رکھنا خاص طور پر ضروری ہے۔اب اس ایک حکم میں ہی تمام نمازوں کی حفاظت کا حکم آگیا ہے۔ہر شخص کے لئے اس کی صلوۃ الوسطی کی حفاظت اسے عمومی طور پر نمازوں کی طرف متوجہ رکھے گی۔اور پھر نمازوں کی یہ حفاظت نہ صرف ایک مومن کے لئے اس کے ایمان میں اضافے کا باعث بنے گی بلکہ نمازوں کا حق ادا کرتے ہوئے نمازوں کی ادائیگی اس کی نسل کے