خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 510
خطبات مسرور جلد ہشتم 510 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم اکتوبر 2010 پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انکار کر دیا۔پس ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے۔پس غلبہ ایمان لانے والوں کا ہوا اور یہی ان کا مقدر ہوتا ہے اور یہی الہی جماعتوں کا مقدر ہے۔جو ایمان لاتے ہیں وہی غلبہ حاصل کرتے ہیں۔یہاں حضرت عیسی کے حواریوں کی مثال دے کر ہمیں یہ توجہ دلائی ہے کہ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے انصار بن جاؤ۔جب مسیح موعود کا دعوی ہو تو تم بھی ایمان لانے والے گروہ میں شامل ہو جانا، انکار کرنے والے گروہ میں شامل نہ ہونا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ آج ہمیں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والے گروہ میں شامل فرمایا ہے۔تو پھر اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم بھی آنحضرت صلی لن لے کے اس عاشق صادق کی مکمل پیروی کریں تا کہ آنحضرت علی ملی کام کا لایا ہوا دین دنیا میں پھیلا سکیں۔اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں اور اپنی نسلوں میں وہ ایمان پیدا کریں اور کرنے کی کوشش کریں جن سے آگے پھر انصار اللہ کی جاگ لگتی چلی جائے۔ایک کے بعد دوسرا مددگار پیدا ہوتا چلا جائے۔اور اس کی جاگ تبھی لگ سکتی ہے جب ہم اپنے عہد بیعت کو سامنے رکھیں اور اس کی ہر شق کے نمونے اپنی اولادوں کے سامنے پیش کرنے والے بن جائیں۔تبھی یہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ جاری رہے گا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے کچھ عرصہ یا نسلوں بعد تو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور تعلیم کی پیروی ختم ہو گئی تھی، جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا۔اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ بادشاہوں کے عیسائی ہونے کے ساتھ ہی وہ آزادی تو مل گئی لیکن کچھ عرصے بعد موحدین کی جو تعداد تھی وہ کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہو گئی۔اللہ تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے اس کی ذات تو پیچھے چلی گئی اور اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ اور اللہ تعالیٰ کا رسول ظالمانہ طور پر خدا تعالیٰ کے مقابلے پر لا کر کھڑا کر دیا گیا۔لیکن مسیح محمدی کے ماننے والوں نے توحید کے قیام اور اس کو اپنی نسلوں میں جاری رکھنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے اور وہ روحانی غلبہ حاصل کرنا ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔یعنی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنانا ہے۔خدا تعالیٰ کے پیغام کو جو آنحضرت صلی ایم کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے دنیا میں پھیلانے کا اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اہتمام فرمایا ہے ، اس پیغام کو مسیح اور مہدی کے انصار بن کر دنیا میں پھیلانا ہے۔اور پھر اپنے تک ہی محدود نہیں رکھنا بلکہ اپنی اولاد کے دل میں بھی اس دین کی عظمت کو اس طرح قائم کرنا ہے کہ ان میں سے نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے والے پیدا ہوتے چلے جائیں اور یہ تعداد پھر بڑھتی چلی جائے یہاں تک کہ دنیا پر اسلام کا ایک نئی شان کے ساتھ غلبہ ہم دیکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو پہلی چیز اپنی شرائط بیعت میں ہمارے سامنے رکھی ہے وہ شرک سے اجتناب ہے۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159 - اشتہار " تحمیل تبلیغ " 12 جنوری 1889ء۔ضیاء الاسلام پریس ربوہ )