خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 509
خطبات مسرور جلد ہشتم 509 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم اکتوبر 2010 کرنے کے ساتھ ساتھ ایمان میں ترقی کرتے ہیں اور ایمان میں ترقی تقویٰ میں ترقی کا باعث بنتی ہے۔پس ہمارے انصار اللہ کی بھی اور ہماری لجنہ اماءاللہ کی بھی یہ ایک ذمہ داری ہے کہ تقویٰ میں ترقی کر کے ہم آئندہ نسلوں کے لئے وہ پاک نمونہ قائم کرنے والے بن جائیں جو ہماری نسلوں کی روحانی زندگی اور روحانی ترقی کی ضمانت بن جائے۔عورت اور مر دہر ایک پر اپنے اپنے دائرے میں بعض فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جن کا پورا کرنا دونوں کا فرض ہے اور اس کے لئے لائحہ عمل، اس کے لئے ایک گائیڈ لائن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شرائط بیعت کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دی ہے ، اس پر ہر وقت غور ہونا چاہئے۔اس کا خلاصہ میں نے بیان کر دیا ہے۔نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ کیوں لگایا گیا تھا۔قرآنِ کریم میں ہمیں دو جگہ اس کا ذکر ملتا ہے ، ایک سورۃ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَمَّا اَحَتَ عِيْسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِثُونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ أَمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدُ بِأَنَا مُسْلِمُونَ ( آل عمران : 53) پس جب عیسی نے ان میں انکار کارجحان محسوس کیا تو کہا کہ کون اللہ کی طرف بلانے میں میرے انصار ہوں گے تو حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے انصار ہیں۔ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں اور تو گواہ بن جا کہ ہم فرمانبردار ہیں۔جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ انکار اور کفر میں یہ لوگ بڑھتے چلے جا رہے ہیں تو پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے دین کے لئے پکار رہا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں۔تمہاری بقا اسی میں ہے کہ مجھے قبول کرو اور اللہ کی پہچان کرو اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرو۔آگے بڑھو اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس دین کو اختیار کرو۔اور پھر ان میں سے جو چند حواری تھے وہ آگے آئے اور انہوں نے جب نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کہا تو یہ دعا بھی کی کہ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ (آل عمران:54) کہ اے ہمارے رب! جو کچھ تو نے اتارا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم اس رسول کے متبع ہو گئے ہیں۔پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔رسول کی اتباع کیا ہے ؟ اس سے کئے گئے عہد کو پورا کرنا، اس کی لائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کرنا، اس تعلیم کی سچائی پر کامل ایمان ہونا۔اور پھر ہم دیکھتے ہیں اس کا دوسرا ذکر سورۃ الصف میں ملتا ہے۔یہاں فرمایا کہ : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ط كُونُوا اَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ اَنْصَادِى إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ فَأَمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ كَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَاَيَّدُنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوَهِمْ فَأَصْبَحُوا ظهرين (الصف: 15) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے انصار بن جاؤ، جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف رہنمائی کرنے میں میرے انصار ہوں۔حواریوں نے کہا ہم اللہ کے انصار ہیں۔