خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 508
خطبات مسرور جلد ہشتم 508 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم اکتوبر 2010 جاتا ہے اور سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔اور جب یہ صورت ہو تو اس عمر میں پھر آخرت کی فکر بھی ہونی چاہئے اور یہی ایک ایسے شخص کا، ایک ایسے مومن کا رویہ ہونا چاہئے جس کو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو، یقین ہو اور تقویٰ میں ترقی کرنے کے لئے اس کی کوشش ہو تو پھر اس کی یہ سوچ ہونی چاہئے کیونکہ ایک احمدی نے اپنے عہد میں، عہدِ بیعت میں اس بات کا اقرار کیا ہوا ہے کہ اس نے تقویٰ میں ترقی کرنی ہے ، تمام اعلیٰ اخلاق اپنانے ہیں، اس لئے اس کو تو عمومی طور پر اور اس پختہ عمر میں خاص طور پر یہ سوچ اپنے اندر بہت زیادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ انصار اللہ ہیں۔ایک ایسی عمر ہے جو نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ (آل عمران : 53) کا اعلان کرتے ہیں۔ان کو تو ہر وقت یہ بات اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے۔عہد بیعت کا خلاصہ عہد بیعت کا خلاصہ کیا ہے ؟ شرک سے اجتناب کرنا، جھوٹ سے بچنا، لڑائی جھگڑوں اور ظلم سے بچنا، خیانت سے بچنا، فساد اور بغاوت سے بچنا، نفسانی جوش کو دبانا، پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی کرنا، تہجد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینا، استغفار دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دینا، تسبیح و تحمید کرنا، تنگی اور آسائش ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے وفا کرنا، قرآن شریف کے احکامات پر عمل کرنا، تکبر نخوت سے پر ہیز کرنا، عاجزی اور خوش خلقی کا اظہار کرنا، ہمدری خلق کا جذبہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اندر پیدا کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کامل اطاعت کا جو اپنی گردن پر ڈالنا۔یہ ہے خلاصہ شرائط بیعت کا۔پس اگر غور کریں تو یہ باتیں ایک انسان میں تقویٰ میں ترقی کا باعث بنتی ہیں۔اور یہ کم از کم معیار ہے جس کی ایک احمدی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توقع فرمائی ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ ایک انسان میں یہ چیزیں پیدا کی جائیں اور انسان آپ کی بیعت میں آکر تقویٰ میں ترقی کرے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پید اہو اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔خد اتعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 100 جدید ایڈ یشن مطبوعہ ربوہ) پس یہ تقویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔تقویٰ وہ ہے جو دل کی آواز ہو ، جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے دل سے اٹھنے والی آواز ہو۔یہ عبادتیں، شرک سے پر ہیز یا ان باتوں پر عمل جو انسان کے اعلیٰ اخلاق کا اظہار ہیں یہ سب کسی قسم کی چٹی، جرمانہ یا تاوان سمجھ کر نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ سے پیار کے تعلق کی وجہ سے ہو۔ایمان کا وہ مقام ہو جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرة: 166) اور جو لوگ ایمان لانے والے ہیں ان کی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ہی ہوتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے محبت میں ترقی