خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 507

خطبات مسرور جلد ہشتم 507 خطبہ جمعہ فرموده مورخہ یکم اکتوبر 2010 پس یہ ہمیشہ ہمیں اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے اور آپ کی قائم کردہ جماعت نے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق غالب تو انشاء اللہ تعالی آنا ہے۔راستے کی مشکلات ناکامی کی نہیں بلکہ کامیابی کی علامت ہیں۔اگر ہم تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اور اپنے بچوں کی اصلاح کی طرف نظر رکھیں گے ، اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اس نظام کا حصہ بنائے رکھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا تو ہم بھی اس رحمت اور فضل کے حاصل کرنے والے بن جائیں گے جو خدا تعالیٰ نے جماعت کے لئے مقدر کئے ہوئے ہیں۔اور ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی انشاء اللہ تعالیٰ فتوحات دیکھیں گی۔اگر ہم میں سے کوئی عمر کے اس حصے میں پہنچا ہوا ہے جہاں بظاہر زندگی کا کچھ حصہ نظر آرہا ہے ، بڑی عمر ہے ، ویسے تو کسی کا نہیں پتہ کہ کب قضا آ جائے، لیکن بہر حال بڑی عمر کے لوگوں کو زیادہ فکر ہوتی ہے۔جو اس میں بھی پہنچا ہوا ہے تو جس طرح بچوں کی دنیاوی بہتری کے لئے بڑی عمر کے لوگوں کو فکر ہوتی ہے، بڑا تر ڈد ہوتا ہے ،اسی طرح اسے دینی حالت کی بہتری اور جماعت سے اپنی نسلوں کو جوڑے رکھنے کے لئے بھی فکر ہونی چاہیے۔دنیاوی بہتری کے سامان کرنے کے لئے ، بچوں کے لئے جائیداد، مکان، بہتر تعلیم یا کام کی ان کو فکر ہوتی ہے۔بڑے لوگ دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں۔تو اسی طرح ان کی بچوں کی روحانی اور اخلاقی حالت کی بہتری کے لئے بھی فکر ہونی چاہئے۔یہی تقویٰ ہے اور یہی اس عہد کا حق ادا کرنے کی کوشش ہے جو ہم اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں دہراتے ہیں۔جماعت سے جڑے رہنے میں بقا ہے پس یاد رکھنا چاہئے کہ جماعتی ترقی ہمارے اپنے بچوں کی تربیت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہر حالت میں جماعت سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔جماعت اور اسلام کا غلبہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔اس خدا کی تقدیر ہے جو تمام طاقتوں کا مالک خدا ہے اور وہ نا قابل شکست اور غالب ہے۔اگر کوئی ہم میں سے راستے کی مشکلات دیکھ کر کمزوری دکھاتا ہے ، اگر ہماری اولادیں ہمارے ایمان میں کمزوری کا باعث بن جاتی ہیں ، اگر ہماری تربیت کا حق ادا کرنے میں کمی ہماری اولادوں کو دین سے دور لے جاتی ہے، اگر کوئی ابتلا ہمیں یا ہماری اولادوں کو ڈانواں ڈول کرنے کا باعث بن جاتا ہے تو اس سے دین کے غلبے کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہاں جو کمزوری دکھاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ دوسروں کو سامنے لے آتا ہے، اور لوگوں کو سامنے لے آتا ہے، نئی قو میں کھڑی کر دیتا ہے۔پس اس اہم بات کو ، اور یہ بہت ہی اہم بات ہے ہمیں ہمیشہ ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی نسلوں کی تربیت کی فکر کی ضرورت ہے۔سب سے اہم بات اس سلسلے میں ہمارے اپنے پاک نمونے ہیں۔انصار اللہ ذمہ داریاں انصار اللہ کی عمر چالیس سال سے شروع ہوتی ہے۔گویا انصار اللہ کی عمر میں انسان اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ