خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 506
خطبات مسرور جلد ہشتم 506 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم اکتوبر 2010 پھر فرماتا ہے وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَذِبِينَ (العنكبوت: 4) جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کو بھی ہم نے آزمایا تھا اور اب بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔سو اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا ان کو بھی جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جنہوں نے جھوٹ بولا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے کے لئے آزماتا ہے۔کبھی کسی قسم کے امتحان سے گزارتا ہے اور کبھی کسی اور قسم کے امتحان سے گزارتا ہے۔یہ امتحان ایمان میں جو مضبوط لوگ ہیں ان کے تعلق میں اضافہ کرتا ہے۔ان کا مضبوط ایمان بڑھا دیتا ہے اور جو کمزور اور معترض ہیں جو کہ کسی نہ کسی رنگ میں اعتراض میں مصروف رہتے ہیں، وہ لوگ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ہوتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض ہوتے ہیں۔چھوٹے عہدے داروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔بڑے عہدے داروں پر اعتراض ہوتے ہیں اور پھر یہ اعتراض جو شروع ہوتے ہیں تو بڑھتے بڑھتے ان لوگوں کے ایمان کے لئے بھی خطرہ اور ابتلا بن جاتے ہیں اگر اللہ کا خاص فضل نہ ہو تو پھر بعضوں پہ ایک صورت ایسی بھی آجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت کی صداقت پر ہی شک کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح مخالفین کی طرف سے تکالیف اور دشمنیاں کمزور ایمان والوں کو ابتلاؤں میں ڈال دیتی ہیں۔پس مومن کا امتحان اس کو مزید صیقل کرنے کے لئے ہے۔اس کو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے ہے اور من حیث الجماعت، جماعت کے لئے کامیابی کے نئے راستے کھولنے کے لئے ہے ، نہ کہ مغلوب کرنے کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”جو لوگ خدائی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پھر ان کے واسطے ہر طرح کے آرام و آسائش رحمت اور فضل کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 460) پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " آنحضرت صلی علیہ ظلم ہی کی تکالیف کا نتیجہ تھا کہ مکہ فتح ہو گیا۔ابتلاء فتوحات کے دروازے کھولنے کے لئے (ملفوظات جلد 2 صفحہ 299) پس یہ ابتلاء انبیاء اور انبیاء کی جماعتوں کے لئے فتوحات کے دروازے کھولنے کے لئے ہیں۔اگر ہم اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے جو بھی ابتلاء اور امتحان آئیں گے ، ان میں سے کامیابی سے گزرنے کی کوشش کرتے رہے تو رحمت اور فضل کے دروازے ہم پر بھی کھلتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ۔جب اللہ تعالیٰ نے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلی ( المجادلہ : 22) فرمایا تو ساتھ ہی فرمایا کہ یہ یقینی غلبہ اس لئے ہے کہ اِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزُ (المجادلہ :22) کہ یعنی اللہ تعالیٰ قوی ہے ، مضبوط ہے اور تمام طاقتوں والا ہے۔وہ عزیز ہے۔وہی ہے جو اپنی تمام صفات کی وجہ سے قابلِ تعریف ہے۔وہ نا قابل شکست ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔