خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 505

خطبات مسرور جلد ہشتم 505 40 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم اکتوبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اکتوبر 2010ء بمطابق یکم اخاء 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دو اہم ذیلی تنظیمی آج مجالس انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ یوں کے کے اجتماعات شروع ہو رہے ہیں۔اسی طرح بعض اور ممالک میں بھی اجتماعات ہو رہے ہیں۔یہ دونوں تنظیمیں اپنی اہمیت کے لحاظ سے بڑی اہم تنظیمیں ہیں اور جماعتی ترقی اور تعلیم و تربیت اور اگلی نسل کو سنبھالنے میں عورت اور مرد خاص طور پر وہ جو چالیس سال سے اوپر کی عمر کے ہیں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر اپنی اس ذمہ داری کو ہماری عورتیں اور مرد حقیقی رنگ میں محسوس کر لیں اور جو ذمہ داریاں مرد اور عورت پر ہیں ان پر بھر پور طور پر توجہ دیں اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کریں تو اگلی نسل کے جماعت سے جڑے رہنے اور ان کے اخلاص و وفا میں بڑھتے چلے جانے کی ضمانت مل سکتی ہے۔جہاں تک جماعتی ترقی کا سوال ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اس بات کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اسی طرح وعدہ ہے جیسا کہ آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی الله کم کو بھی اللہ تعالیٰ نے تسلی دلائی تھی کہ آخری زمانے میں آپ کے غلام صادق کے مبعوث ہونے کے بعد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ایک اور دور شروع ہو گا، اس میں اسلام کا آخری غلبہ ہو گا۔پس یہ ترقی تو جماعت کا مقدر ہے ، انشاء اللہ۔راستے کی مشکلات بھی ہوتی ہیں جیسا کہ دوسری الہی جماعتوں کو ہو ئیں۔امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا۔جماعت احمدیہ کو بھی وقتاً فوقتاً مختلف جگہوں پر ان مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔آگیں بھڑکائی جاتی ہیں لیکن یہ آگیں اللہ تعالیٰ ٹھنڈی کر دیتا ہے۔اور نہ صرف ٹھنڈی کر دیتا ہے بلکہ مومن ان تکالیف اور مشکلات میں سے جب گزرتا ہے تو اس سونے کی مانند ہوتا ہے جو آگ میں پڑ کر کندن بن کر نکلتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو خود بھی قرآنِ کریم میں بیان فرمایا ہے کہ میں آزمائشیں بھی کرتا ہوں، امتحان بھی لیتا ہوں۔فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يفتنون ( العنکبوت:3) کیا اس زمانے کے لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کا یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی ہو گا اور وہ چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟