خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد ہشتم 497 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 وَزِدْ نَهُم هُدًی ہم نے انہیں ہدایت میں ترقی دی۔وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ اور ہم نے ان کے دلوں کو تقویت بخشی اور اس ہدایت میں ترقی اور دلوں کی تقویت کی وجہ سے انہوں نے اپنے وقت کے تمام جابر سلطانوں کے سامنے جرآت کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ کن نَدْعُوا مِنْ دُونِۃ الھا کہ ہم ہر گز اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہیں پکاریں گے۔ہم اپنی جان تو دے سکتے ہیں، ہم اپنے حقوق کو تو قربان کر سکتے ہیں، ہم اپنے پیاروں اور جان ومال کی قربانی تو دے سکتے ہیں لیکن توحید سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔پس ہمارے سامنے ان ایمان لانے والوں کا یہ نمونہ ہے، جن کے سامنے اُسوہ کا وہ معیار نہیں تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے سامنے اپنے پیارے نبی صلی علی کم اور آپ کے صحابہ کے ذریعہ رکھا ہے۔پس ہمارے سامنے اس اُسوہ کا اعلیٰ ترین معیار یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم توحید کے قیام اور استحکام اور ہدایت کے راستوں پر چلنے کے لئے جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے عہد کو ہر وقت سامنے رکھتے ہوئے پورا کرتے چلے جائیں۔کوئی ابتلا، کوئی دنیاوی لالچ ہمیں اپنے عہد کو نبھانے اور پورا کرنے میں روک نہ بن سکے۔پاکستان کے احمدی اصحاب کہف سی زندگی گزار رہے ہیں جب الہی جماعتوں کی ابتلا سے گزرنے کی مثالیں سامنے آتی ہیں تو توجہ فور پاکستان کے احمدیوں کی طرف خاص طور پر پھر جاتی ہے۔اور پھر چند دوسرے ممالک بھی ہیں جہاں احمدیوں پر سختیاں روار کھی جارہی ہیں۔آج پاکستان کے احمدی ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرنے کے ساتھ ساتھ جان اور مال کی قربانیاں بھی پیش کر رہے ہیں۔اسی طرح عرب ممالک میں احمدی ہیں جن کی تعداد میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج کل روزانہ کی ڈاک میں بیعتوں کے خطوط آتے ہیں۔ان عرب ملکوں میں بھی احمدی ہونے کی وجہ سے مشکلات ہیں۔اور ان ملکوں کے احمدی بھی اصحاب کہف کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان کی تو پرانی جماعت ہے اور بلا خوف اپنے ایمان کا اظہار بھی کرتے ہیں۔کسی احمدی کی احمدیت چھپی ہوئی نہیں ہے، پتہ لگ ہی جاتا ہے۔لیکن نئے شامل ہونے والوں کے لئے یہ اظہار بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اکثریت ان شامل ہونے والوں کی پر جوش بھی ہے اور ایمان میں ترقی کرنے والوں کی بھی ہے لیکن بعض کمزور بھی ہوتے ہیں۔وسیع طور پر ایک جگہ جمع ہونے یا با جماعت نماز کی ادائیگی یا جمعہ پڑھنے سے روکا جاتا ہے۔اور پھر جماعت کے استحکام کے لئے بعض دفعہ ضروری بھی ہوتا ہے اور بعض انتظامی اقدامات احمدیوں کی حفاظت کے لئے کرنے پڑتے ہیں۔یہ بعض دفعہ عرب ملکوں سے بڑے بے چین ہو کر مجھے لکھتے ہیں کہ کب تک ہم اسی طرح گزارہ کریں گے۔تو میں ان کو اصحاب کہف کی مثال دے کر ہمیشہ صبر کی تلقین کیا کرتا ہوں۔یہ دن انشاء اللہ تعالیٰ بدلنے ہیں اور انبیاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ بدلتے ہیں اور بدلیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔پس ان مسلمان ملکوں کے احمدی جو بعض اوقات اس وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیں کہ کب تک ہم چھپ کر اپنے پروگرام کریں گے ، حتی کے جیسے میں نے کہا کہ نماز اور جمعہ بھی چھپ کر پڑھیں گے تو ان سے میں کہتا ہوں کہ آپ کو تو ابھی اس مزے کا احساس نہیں ہے جو براہِ راست خلافت کے