خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 490
خطبات مسرور جلد ہشتم 490 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 ہو اس سے زیادہ اور کون سی چیز اس بات کی حق دار ہے کہ اس کی خاطر اپنے مال میں سے کچھ قربان کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدوں کے پاس جو کچھ تھا انہوں نے پیش کر دیا۔اور خدا تعالیٰ نے ان کی اس قربانی کو قبول فرما کر ان کی نسل میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا سب سے پیارا نبی پیدا فرما یا وہاں ان دونوں کے نام بھی تا قیامت اپنے اس پیارے کے ساتھ جوڑ دیئے۔پس یہ ایسی قربانی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی مقبول ہوئی۔اور آج ہمیں بھی حکم ہے کہ تم اس قربانی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کرو۔اور ان کا رخ بھی اللہ تعالیٰ کے اس قدیم گھر کی طرف رکھو تا کہ جہاں تمہاری توجہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رہے وہاں ان فرستادوں کی قربانیاں بھی یاد رہیں۔ان کی وفاؤں کے نمونے سامنے رکھ کر ہمیں بھی اپنی وفاؤں کے پر کھنے کی طرف توجہ رہے۔ہمیشہ ہماری دعائیں اللہ تعالیٰ کے حضور سنی جاتی رہیں۔پس یہ روح ہے جو مسجدیں تعمیر کرنے والوں کو ہر وقت قائم رکھنی چاہئے۔اور اس روح کو قائم رکھنے کے لئے اگلی آیت میں مزید کھول کر بتایا ہے۔( یہ دو آیات تھیں) کہ اس وفا کو قائم رکھنے اور قربانیوں کی روح کو دوام بخشنے کے لئے بعض اعمال بھی ہیں جو ہمیشہ ہمیں پیش نظر رکھنے چاہئیں۔بعض دعائیں بھی ہیں جو ہمیں کرتے رہنا چاہئیں۔یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے پیارے اسی طرح دعا کرتے تھے کہ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ یعنی ہمیں بھی اپنے دو فرمانبر دار بندے بنادے۔پس عبادت گاہ بنانے والوں کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ کامل فرمانبر دار ہوں۔یہاں پھر وفا کی طرف مضمون پھیر ا گیا ہے کہ کامل وفا کے ساتھ ہی کامل فرمانبرداری ہوتی ہے۔یا کامل فرمانبر داری کا اظہار وہی لوگ کر سکتے ہیں جو کہ وفاؤں کے معیار قائم کرنے والے ہوں۔جب انسان کامل فرمانبر دار ہو تو تبھی یہ معیار بھی قائم ہوتے ہیں۔ایک بندہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل فرمانبرداری کا عہد کرے یا دعا مانگے تو اس کا مطلب ہے کہ اس بات کی حتی المقدور کوشش کرے گا کہ اطاعت کے اعلیٰ ترین نمونے دکھانے کی طرف توجہ رہے۔اور اطاعت کا اعلیٰ ترین نمونہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ عمل کرنا ہے اور اس کے لئے کوشش کرنا ہے۔اور ان حکموں میں جہاں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی ہے وہاں بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔جہاں عبادت کے معیار بلند کرنے کی کوشش ہے وہاں نظام جماعت کی کامل اطاعت کے لئے پوری کوشش کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی پوری کوشش کی ضرورت ہے۔اور جب یہ نمونے انسان خود قائم کرتا ہے ، اور اس کے لئے دعا بھی کرتا ہے تو پھر یہ خیال آتا ہے کہ میری نیکیاں کہیں میرے تک ہی نہ ختم ہو جائیں، اور میرے بعد یہ نیکیاں آگے نہ چلیں۔اس لئے خدا کے گھر کی تعمیر کے ساتھ یہ دعا بھی سکھا دی کہ ہماری اولاد میں سے بھی ایک پاک اور فرمانبر دار جماعت پیدا کر جو تیری عبادت کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔نظام جماعت سے بھی جڑے رہنے والے ہوں، اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہوں۔