خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 489
خطبات مسرور جلد ہشتم 489 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 تو ہمیں اپنے دلوں کو ٹٹولتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور اس دعا کے ساتھ یہ قربانیاں دینی ہوں گی کہ اے خدا! ہماری اس قربانی کو اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بنادے۔کبھی ہمارے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ یہ کوئی بہت بڑی قربانی ہے جو ہم نے دی ہے یا ہم دے رہے ہیں۔یہاں تو آپ میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو اچھا کمانے والے ہیں۔پاکستان میں اور افریقہ وغیرہ کے ممالک میں اور دوسرے غریب ممالک میں تو احمدی اللہ تعالیٰ کے گھروں کی تعمیر کے لئے اپنے پیٹ کاٹ کر قربانیاں کر کے دے رہے ہیں اور دیتے ہیں۔لیکن بہت سے ایسے ہیں جن کی پھر بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اور توفیق دے تو اور دیں۔افریقہ میں ایسے بہت سے افریقین احمدیوں کو میں جانتا ہوں جن کے حالات پہلے تو اچھے نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود وہ قربانیاں دیتے رہے۔تو پھر خدا تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے دن پھیرے۔آمدنیوں کے ذریعے بڑھ گئے۔کاروبار میں وسعت پیدا ہوئی تو انہوں نے اپنی قربانیوں کے معیار اور بڑھا دیئے۔زائد آمد سے اپنے آرام و سکون کا خیال نہیں رکھا بلکہ مساجد کی تعمیر کے لئے بے انتہا دیا۔ایسے بھی ہیں جنہوں نے اکیلے ہی ایک ایک مسجد خود تعمیر کی اور بڑی بڑی اچھی خوبصورت مساجد تعمیر کی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے عجیب عجیب قربانیاں کرنے والے دل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو عطا فرمائے ہیں۔اور انہیں پھر کبھی یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم نے کوئی قربانی کی ہے۔میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ اکثریت نے خوشدلی سے اس فیصلہ کو قبول کر لیا لیکن شاید چند ایک ایسے بھی ہوں جو Dublin میں مسجد کی تعمیر پہلے چاہتے ہوں۔ایک دو نے تو مجھے خط بھی لکھے تھے جماعت کی تعداد وہاں زیادہ ہے اس لئے ان کی خواہش بھی جائز ہے۔لیکن بعض اور وجوہات ایسی ہیں جن کی وجہ سے یہاں تعمیر کا پہلے فیصلہ کیا گیا۔اس لئے اب وہ لوگ بھی جن کی مرضی کے خلاف یہ تعمیر ہو رہی ہے ان کو اس کی تعمیر میں کھلے دل سے حصہ لینا چاہئے اور یہ احساس نہیں ہونا چاہئے کہ ہم Dublin میں رہتے ہیں اس لئے وہاں کی مسجد کی پہلے تعمیر ہو یا جب بھی وہاں مسجد تعمیر ہو گی تو ہم اس میں حصہ لیں گے۔یہ ایک مرکزی پر اجیکٹ ہے، منصوبہ ہے ، اس لئے یہاں بھی سب کو حصہ لینا چاہئے اور جب Dublin میں انشاء اللہ تعالیٰ مسجد بنے گی تو وہاں بھی سب حصہ لیں گے۔یہ تو ایک راستہ ہے جو کھولا جارہا ہے۔یہ مسجد بننے کے بعد مساجد کی تعمیر بند تو نہیں ہو جائے گی۔یہی چیز ہے جو حقیقی وفا کی نشاندہی کرتی ہے۔وفاد کھانے کا یہ مطلب بھی ہے کہ عہد کو پورا کرنا۔پس ہر احمدی نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں اپنی جان مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہوں گا۔تو وفا اور عہد کو پورا کرنے کا معیار تبھی قائم ہو گا جب بے نفس ہو کر حتی الوسع اس مسجد کی تعمیر کے لئے ہر احمدی حصہ لے گا۔آج جو مطالبہ آپ سے ہو رہا ہے وہ یہ ہو رہا ہے۔مختلف وقتوں میں مختلف مطالبے ہوتے ہیں۔پس اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب وفاؤں کے معیار قائم کرنے اور عہدوں کو پورا کرنے سے ملتا ہے۔اور جو عمارت بن ہی خدا کے گھر کے طور پر خدا والوں کی عبادت کے لئے رہی