خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 488
خطبات مسرور جلد ہشتم 488 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 یہ دعا کرتے تھے کہ اس گھر میں آکر دعائیں کرنے والے بھی ہمیں اپنی دعاؤں میں یادرکھیں۔اور جو جو بھی ان سے وابستہ ہیں وہ بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ان باپ بیٹے نے وہ قربانیاں دی تھیں کہ آج تک ہم یا درکھتے ہیں۔مسلمان جب ہر نماز میں درود پڑھتے ہیں اور ہر نفل کی آخری رکعت میں جب ہم آنحضرت صلی للی کم پر درود بھیجتے ہیں تو ساتھ ہی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی اور آپ کی آل پر بھی اس حوالہ سے درود بھیجتے ہیں۔یہ اعزاز حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا، آپ کی وفا اور کامل طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے لئے تیار ہونے کی وجہ سے ملا۔اس بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس طرح بھی بیان فرمایا ہے کہ وَ ابْراهِيمَ الَّذِى وفی (النجم :38) اور ابراہیم جس نے وفا کی اور عہد پورا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں ایک جگہ یوں فرماتے ہیں کہ : ”جب تک انسان صدق وصفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا بندہ نہ ہو گا تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی کہ وَ ابْراهِيمَ الَّذِي وَفَّى (النجم :38) کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الہی سے بھرنا، خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو۔کوئی فرق نہ ہو۔یہ سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں“۔(البدر جلد 2 نمبر 43 مورخہ 16 نومبر 1903 صفحہ 334) پھر آپ فرماتے ہیں: ” نامر د، بزدل، بے وفا جو خد اتعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے۔اس کی کچھ قدرو قیمت نہیں ہے۔ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملا وہ کس بنا پر ملا؟ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے وَ ابْراهِيمَ الَّذِي وَفَّى (النجم : 38) (کہ) ابراہیم وہ ہے جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی۔آگ میں ڈالے گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کافروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھاکروں کی پوجا کرتا ہوں“۔(الحکم جلد 8 نمبر 4 مورخہ 31جنوری1904 صفحہ 1،2) یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے علاوہ کسی اور کی عبادت سے انکار کر دیا۔یہ کامل وفا تھی۔پس ہم عموماً اپنی مساجد کی بنیادوں اور افتتاحوں کی تقریبوں میں جو ان آیات کی تلاوت کرتے ہیں تو یہ روح ہے جو ہمیں اپنے سامنے رکھنی چاہئے ہم یہ تعمیر اور اس تعمیر کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی اگر کر بھی رہے ہیں تو ہمیں نہیں پتہ کہ وہ دکھاوا ہے یا حقیقی قربانی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔اس لئے ہمیں ہمیشہ ان قربانی کرنے والوں میں شامل کر جو حقیقی قربانی کرنے والے ہیں۔مساجد کی تعمیر، قربانیاں اور ہماری ذمہ داریاں آپ یہ مسجد بنائیں گے اور ظاہر ہے ہماری مساجد افراد جماعت کی مالی قربانیوں کے ذریعہ ہی تعمیر ہوتی ہیں