خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page v of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page v

خطبات مسرور جلد ہشتم 3 دیکھیں گی۔اگر ہم میں سے کوئی عمر کے اس حصے میں پہنچا ہوا ہے جہاں بظاہر زندگی کا کچھ حصہ نظر آرہا ہے ، بڑی عمر ہے ، ویسے تو کسی کا نہیں پتہ کہ کب قضا آ جائے، لیکن بہر حال بڑی عمر کے لوگوں کو زیادہ فکر ہوتی ہے۔جو اس میں بھی پہنچا ہوا ہے تو جس طرح بچوں کی دنیاوی بہتری کے لئے بڑی عمر کے لوگوں کو فکر ہوتی ہے ، بڑا تر ڈ دہوتا ہے ،اسی طرح اسے دینی حالت کی بہتری اور جماعت سے اپنی نسلوں کو جوڑے رکھنے کے لئے بھی فکر ہونی چاہیے۔دنیاوی بہتری کے سامان کرنے کے لئے، بچوں کے لئے جائیداد، مکان، بہتر تعلیم یا کام کی ان کو فکر ہوتی ہے۔بڑے لوگ دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں۔تو اسی طرح ان کی بچوں کی روحانی اور اخلاقی حالت کی بہتری کے لئے بھی فکر ہونی چاہیئے۔یہی تقویٰ ہے اور یہی اس عہد کا حق ادا کرنے کی کوشش ہے جو ہم اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں دہراتے ہیں۔پس یا د رکھنا چاہئے کہ جماعتی ترقی ہمارے اپنے بچوں کی تربیت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ہماری اور ہماری نسلوں کی بقاہر حالت میں جماعت سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔جماعت اور اسلام کا غلبہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔اس خدا کی تقدیر ہے جو تمام طاقتوں کا مالک خدا ہے اور وہ نا قابل شکست اور غالب ہے۔اگر کوئی ہم میں سے راستے کی مشکلات دیکھ کر کمزوری دکھاتا ہے، اگر ہماری اولادیں ہمارے ایمان میں کمزوری کا باعث بن جاتی ہیں، اگر ہماری تربیت کا حق ادا کرنے میں کمی ہماری اولادوں کو دین سے دور لے جاتی ہے، اگر کوئی ابتلا ہمیں یا ہماری اولادوں کو ڈانواں ڈول کرنے کا باعث بن جاتا ہے تو اس سے دین کے غلبے کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہاں جو کمزوری دکھاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ دوسروں کو سامنے لے آتا ہے، اور لوگوں کو سامنے لے آتا ہے، نئی قومیں کھڑی کر دیتا ہے۔پس اس اہم بات کو ، اور یہ بہت ہی اہم بات ہے ہمیں ہمیشہ ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی نسلوں کی تربیت کی فکر کی ضرورت ہے۔سب سے اہم بات اس سلسلے میں ہمارے اپنے پاک نمونے ہیں۔“ (جلد ہذا صفحہ 507) اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نصائح اور ہدایات کو سننے ، پڑھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ناشر