خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 457
457 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کی خبر بھی دی ہے تو جس نے پھر خدا تعالیٰ سے بندے کے تعلق کو قائم کروانا تھا اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور دعا بھی مسلمانوں کے سامنے موجود ہے اور اکثر پڑھتے بھی ہیں۔تو کس قدر ضروری ہے کہ اس سے تعلق جوڑ کر اللہ تعالیٰ کے راستوں کو پانے کا تجربہ تو کریں۔بجائے اس کے کہ بغیر سوچے سمجھے انکار کرتے چلے جائیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے تو ایک جگہ لکھا ہے کہ کئی دفعہ میں تو غیر مسلموں کو بھی کہہ چکا ہوں کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا ہمیں سکھائی گئی ہے، تم یہ پڑھو۔یہ تو تم نہیں پڑھ سکتے لیکن خالی الذہن ہو کر یہ دعامانگو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے تو اللہ تعالی رہنمائی فرمائے گا۔اور آپ نے فرمایا کہ کئی لوگوں نے مجھے بتایا کہ اس سے ان پر اسلام کی سچائی کھل گئی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد اول صفحه (35) یہ اور بات ہے کہ بعض غیر مسلم خوفزدہ ہو کر یا اپنے مفاد کی وجہ سے انہوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا۔لیکن سچائی بہر حال ظاہر ہو جاتی ہے۔مسلمانوں کو تو خاص طور پر اس نسخہ کو آزمانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے کی بجائے اس کی نہ صرف رضا حاصل کرنے والے بنیں بلکہ نئے سے نئے راستوں کو بھی پائیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔اور یہی چیز ہمارے لئے بھی ضروری ہے۔ہم جو احمدی ہیں، ہم جنہوں نے اس زمانے کے امام کو قبول کیا ہے کہ صرف بیعت کر کے بیٹھ نہ جائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تلاش اور قرب کے لئے جہدِ مسلسل کرتے چلے جائیں اور خاص طور پر ان چند دنوں میں بہت توجہ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 450 جدید ایڈیشن ربوہ) کے واسطے غفور ہے“۔پس اگر ہم خالص ہو کر اس کی بخشش طلب کرتے ہوئے اس کے حضور جھکیں گے تو وہ اپنے وعدے کو پورا کرے گا۔اور اپنے وعدے کے مطابق اپنی طرف آنے کے مزید روشن راستے دکھائے گا۔مزید درجے بلند ہوں گے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف آنے کی کوشش کرنے والوں سے راستے دکھانے کا وعدہ فرمایا ہے اسی طرح جو اللہ تعالیٰ سے دُور ہٹتے ہیں پھر ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فعل ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اندھیروں میں گرتے چلے جاتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآنِ کریم میں فَلَمَّا زَاغُوا اَزَاغَ اللهُ قُلُوبَهُمْ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الفيسقين (سورۃ الضف: 6)۔پس جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : جس طرح ہماری دنیاوی زندگی میں صریح نظر آتا ہے کہ ہمارے ہر ایک فعل کے لئے ایک ضروری b