خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد ہشتم 442 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010ء بمطابق 27 ظهور 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائیں: انَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ - وَمَا أَدْرَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ - لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ - تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَ الرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ - سَلَمُ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (سورة القدر) سورۃ قدر جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: یقیناً ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا ہے۔اور تجھے کیا سمجھائے کہ قدر کی رات کیا ہے۔قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔بکثرت نازل ہوتے ہیں اُس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے۔ہر معاملہ میں سلام ہے۔یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے۔لیلۃ القدر کی غیر معمولی برکت اور اہمیت انشاء اللہ تعالیٰ چند دن تک ہم رمضان کے آخری عشرہ میں داخل ہوں گے جس کے بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ اس میں ایک رات ایسی آتی ہے جو لیلتہ القدر کہلاتی ہے۔یعنی ایسی رات جس میں اللہ تعالیٰ کی خاص نظر اپنے مخلص بندوں پر پڑتی ہے۔جب ان کی خاص روحانی کیفیت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور قرب کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔اس وجہ سے مسلمان رمضان کے آخری عشرہ کو عام طور پر بڑی اہمیت دیتے ہیں۔عموماً نمازوں، تراویح اور باقی نیکی کے کاموں میں بھی بہت سے ایسے لوگ جو رمضان کے پہلے اور دوسرے عشرہ میں زیادہ توجہ نہیں دیتے، آخری عشرہ میں نسبتاً بہتر حالت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جماعت میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یہ رجحان رکھتے ہیں اور اس عشرہ میں تہجد اور نوافل کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض احادیث سے ثابت ہے اور اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ اس عشرہ میں ایک رات ہے جو لیلتہ القدر کہلاتی ہے ، ایسی رات جو بڑی اہمیت کی حامل رات ہے۔لیکن اگر صرف ہم اس آخری عشرے کے لئے ہی کوشش کریں اور باقی سارا سال کوئی ایسی کوشش نہ ہو تو کیا یہ چیز ایک انسان کو حقیقی مومن اور عابد بنا سکتی ہے ؟