خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 405
405 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 جلوے ہم نے اس جلسہ کے دوران بھی دیکھے۔اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے بھی نظارے ہم نے دیکھے۔اور اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کے نظارے بھی ہم نے دیکھے۔اور ان کو دیکھ کر ہم میں شکر گزاری کی کیفیت بھی پیدا ہوتی رہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اس شکر گزاری اور اللہ تعالیٰ کا عبد شکور بننے کی وجہ سے ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کے اس وعدے سے بھی فیض پاتے رہے کہ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم : 8) اگر تم شکر گزار بنے تو میں اور بھی زیادہ دوں گا۔پس جلسے کے دنوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے افضال کو دیکھ کر اُس کے شکر گزار رہے، اس کے آگے جھکتے رہے اور ہمارے بعض خدشات اور تحفظات کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے دور فرمایا اور بے شمار برکتوں کے ساتھ جلسہ کا اختتام ہوا۔پس ان افضال، اللہ تعالیٰ کے رحمانیت اور رحیمیت کے نظارے جو ہم نے دیکھے ان کے جاری رکھنے کے لئے یہ کیفیت ہمیشہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی تلاش اور جستجو کے لئے کوشش کرتے رہیں ، اس سے فضل مانگتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:۔یہ دونوں صفتیں یعنی رحمانیت اور رحیمیت ایسی ہیں کہ بغیر ان کے کوئی کام دنیا کا ہو یا دین کا انجام کو نہیں پہنچ سکتا۔فرمایا کہ ”اور اگر غور کر کے دیکھو تو ظاہر ہو گا کہ دنیا کی تمام مہمات کے انجام دینے کے لئے یہ دونوں صفتیں ہر وقت اور ہر لحظہ کام میں لگی ہوئی ہیں۔خدا کی رحمانیت اس وقت سے ظاہر ہو رہی ہے کہ جب انسان ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔سو وہ رحمانیت انسان کے لئے ایسے ایسے اسباب بہم پہنچاتی ہے کہ جو اُس کی طاقت سے باہر ہیں اور جن کو وہ کسی حیلہ یا تدبیر سے ہر گز حاصل نہیں کر سکتا“۔فرمایا ” اسی طرح خدا کی رحیمیت تب ظہور کرتی ہے کہ جب انسان سب تو فیقوں کو پاکر خداداد قوتوں کو کسی فعل کے انجام کے لئے حرکت دیتا ہے اور جہاں تک اپنا زور اور طاقت اور قوت ہے خرچ کرتا ہے تو اس وقت عادتِ الہیہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ اس کی کوششوں کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ ان کوششوں پر ثمراتِ حسنہ مترتب کرتا ہے۔پس یہ اس کی سراسر رحیمیت ہے کہ جو انسان کی مردہ محنتوں میں جان ڈالتی ہے “۔(براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 422-421۔حاشیہ نمبر 11) شکر گزاری پس جلسہ کے کاموں کی منصوبہ بندی، کارکنان کی محنت ، انتظامات جس کے نتیجہ میں بہتری اور کامیابی ایک مومن کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔اور وہ بجائے تمام امور کے عمدگی سے طے پا جانے کو اپنی طرف منسوب کرنے کے اسے خدا تعالیٰ کا فضل قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنتا ہے۔اور حقیقی عبدِ شکور بننا یہی خدا تعالیٰ کی شکر گزاری ہے یا خد اتعالیٰ کی شکر گزاری جو ہے وہی انسان کو عبد شکور بناتی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔اسی طرح اور بھی بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اس شکر کے مضمون پر توجہ دلائی ہے کہ مومنین کی