خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 404
خطبات مسرور جلد ہشتم 404 32 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 اگست 2010ء بمطابق 06 ظهور 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: الحمد للہ گذشتہ اتوار جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔سب سے پہلے تو ہمارے سر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے ہوئے ہیں اور جھکنے چاہئیں۔اور حقیقی مومن کا یہی رویہ ہونا چاہئے کہ محض اور محض اس کے فضل سے تمام کام بخیر و خوبی انجام کو پہنچے۔اللہ کرے کہ ہم اس اہم بات کو ہمیشہ سمجھتے رہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ابتدا ہی اس بات سے کی ہے کہ ایک حقیقی مومن اپنے تمام کام اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتا ہے تا کہ اس کی ابتداء سے انتہاء تک اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہے اور خدا تعالیٰ ہر لمحے یاد آتار ہے۔قرآن کریم کی پہلی آیت ہی بسم اللہ سے شروع ہوتی ہے جو کہ اس بات کا اعلان ہے کہ میں اپنے خدا کے نام کے ساتھ اس عظیم کتاب کو پڑھتا ہوں جس نے میری دین و دنیا کی بقا کیلئے اسے اپنے نبی صلی للی کم پر نازل فرمایا۔ہر کام کی ابتداء بسم اللہ سے کرو پس ایک مومن کو یہی نصیحت ہے کہ اپنے ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے کرو۔اور پھر اللہ کے نام کے ساتھ۔بِسْمِ اللہ کے بعد جن صفات کا استعمال کیا گیا ہے وہ دو ہیں۔گو اللہ جو تمام صفات کا جامع ہے۔ایک الرَّحْمٰن اور دوسرے الرَّحِیم ہے۔الر حمن وہ ہے جو بے انتہا کرم کرنے والا ہے۔بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت ہی ہے جو بے انتہاء رحم کرتے ہوئے اپنا کرم فرماتی ہے۔جو کسی کام کو کرنے کے لئے ایسے حالات پیدا کرتی ہے ، ایسے انتظامات کرتی ہے جو کسی انسان کی کوشش سے نہیں ہو تا۔اللہ تعالیٰ اپنی بہت سی صفات اپنے بندوں کے لئے صفت رحمانیت کا نظارہ دکھاتے ہوئے بروئے کار لا رہا ہوتا ہے۔اور پھر صفت رحیمیت ہے جو صفت رحمانیت کے عموم سے ہٹ کر عباد الرحمن کے لئے خاص طور پر اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ایک مومن جب اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کے لئے اس کے حضور جھکتا ہے، تمام امور کے با احسن انجام پانے کے لئے اس کی مدد اور رحمت کا امید وار ہو تا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی تائید و نصرت کے جلوے دکھاتا ہے اور یہ تائید ونصرت کے