خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد ہشتم 397 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 دعوتوں اور اس میں شامل ہونے کے طریق اور دعوت ختم ہونے کے بعد کیا طریق ہونا چاہیے ؟ اور آپ کے وقت کو ضائع کرنے سے بچانے کی نصیحت فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ خاص حکم جہاں آنحضرت صلی لی ایم کے مقام و مر تبہ اور آپ کے وقت کی قدر و قیمت کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے وہاں مومنین کو بھی وقت کے حوالے سے یہ عمومی نصیحت ہے کہ لَا مُسْتَأْنِسِيْنَ لِحَدِيثٍ (الاحزاب : 54) کہ بیٹھے باتوں میں وقت نہ ضائع کیا کرو۔بے شک تعارف حاصل کرو۔بیٹھو، تعارف کو بڑھاؤ۔پہلے جو تعلقات ہیں انہیں مزید مستحکم کرو، لیکن اپنے وقت کا بھی کچھ پاس اور خیال کرو۔اور جس کے گھر میں اور جس انتظام کے تحت بیٹھ کر ان خوش گپیوں میں مصروف ہو ان کا بھی کچھ خیال رکھا کرو۔خاص طور پر جو یہاں کام کرنے والے ہیں ان لوگوں کی مصروف زندگی ہے ، ان کو بھی باہر سے آنے والے جو مہمان ہیں بعض اوقات مجبور کرتے ہیں کہ ہماری ان مجلسوں میں بیٹھو، اور اگر کوئی نہ بیٹھے تو عزیز رشتے دار، تعلق والے پھر شکوہ کرتے ہیں۔یہ غلط طریق ہے۔اس کی بھی احتیاط ہونی چاہئے۔اسی طرح صرف یورپ سے باہر کے لوگ نہیں بلکہ یورپ کے لوگ بھی، چونکہ خود فارغ ہو کے آئے ہوتے ہیں، اس لئے یہ سمجھتے ہیں کہ باقی لوگ بھی فارغ ہو چکے ہیں۔آپ کی تو چھٹیاں ہیں، ہر ایک کی چھٹیاں نہیں ہو تیں۔پھر اسی طرح جب بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں تو بعض دفعہ بد مزگیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔کبھی انتظامیہ سے شکوے کی وجہ سے کسی کارکن کو برا بھلا کہہ دیا۔کارکنان نے بھی آگے سے جواب دے دیا تو پھر مزید بات آگے بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس طرح رنجشوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اگر تو شکوے کرنے والے یا کوئی غلط بات کہنے والے یہاں کے رہنے والے ہیں تو پھر یہ سلسلہ بہت ہی لمبا ہو جاتا ہے۔ایک حقیقی مومن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ ( آل عمران : 135 ) کہ وہ غصہ کو دبانے والے ہوتے ہیں۔پس زیادتی کرنے والے اور جس پر زیادتی ہو رہی ہے، دونوں کو میں کہتا ہوں کہ جلسے کے ماحول کے تقدس کو سامنے رکھیں اور مہمان بھی صرفِ نظر سے کام لیں اور عفو و در گزر کریں۔اگر زیادتی ہو بھی جائے تب بھی صبر اور حوصلہ دکھائیں۔اور کارکن بھی اپنے غصہ کو مہمان کی زیادتی ہونے کے باوجود دبا جائیں۔اس سال خاص طور پر کارڈز کی چیکنگ اور سکیورٹی کے مختلف مرحلوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے کسی کو تکلیف ہو اور دیر لگ جائے۔اس وقت بھی مجھے عورتوں کی یہی رپورٹ ملی ہے کہ جہاں سے ان کے داخلے کے گیٹ ہیں، وہاں ان کے بہت زیادہ بیگ ہونے کی وجہ سے دیر لگ رہی ہے۔بیگ تو ان کی مجبوری ہے ، لانے پڑتے ہیں کیونکہ پیچ میں بچوں کی چیزیں بھی ہوتی ہیں لیکن خواتین کو بھی چاہئے کہ آئندہ دنوں میں کم سے کم بیگ لائیں۔بعضوں نے دو دو تین تین اٹھائے ہوتے ہیں۔اس کی وجہ سے وقت ضائع ہو رہا ہے۔اور اسی وجہ سے میں کچھ دیر رک کر آیا ہوں۔لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ رش اتنا ہے کہ ابھی عورتوں کا اندر داخل ہونے پر مزید کافی وقت لگ جائے گا۔جبکہ