خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 23
خطبات مسرور جلد ہشتم 23 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 اور جماعت احمدیہ نے جہاں ابھی مسجد نہیں بنائی ان کو مساجد کا وعدہ دے کر جماعت کو چھوڑنے پر اکساتے ہیں۔بعض عرب ملکوں سے یہ لوگ پیسہ لیتے ہیں۔وہاں جماعت کے خلاف بڑی مہم چل رہی ہے۔مثلاً حال ہی میں داسا سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک جماعت Igangba میں مولویوں کا وفد پہنچا اور جماعت کی مخالفت شروع کر دی تو اس جماعت کے لوگوں نے انہیں روک دیا اور کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہم مسلمان ہیں۔آپ تو کبھی ہماری تربیت یا ہمیں نماز روزہ سکھانے نہیں آئے۔اب احمدیوں نے یہ کام شروع کیا ہے تو تم مسجد بنانے آ گئے ہو۔یہاں سے چلے جاؤ۔اگر مسجد بنے گی تو جماعت احمدیہ کی بنے گی۔پھر کونگو برازویل سے مربی سلسلہ کی رپورٹ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 2009ء میں 51 نئے دیہات میں پہلی دفعہ جماعت کا پودا لگانے کی توفیق ملی اور 22 جماعتیں قائم ہوئیں۔تبلیغ کی جو مہم شروع کی گئی تھی اس میں یہ قائم ہو رہی ہیں۔گزشتہ سال ہم نے پہلی مسجد تعمیر کی تھی اور اسی سال دوسری مسجد Kiossi کے مقام پر تعمیر کر رہے ہیں جو ایک مہینہ تک مکمل ہو جائے گی۔اسی طرح اور جگہوں پر مسجدیں بنتی چلی جائیں گی۔ان ملکوں میں تبلیغ کے کام میں یہ بڑا کام ہو رہا ہے اور یہاں مرکز سے ان کو مالی امداد کی معلمد جاتی ہے اپنے ذرائع فی الحال ان کے پاس ایسے نہیں۔غانا میں تبلیغ اور تربیت کا کام ملک کے شمالی اور جنوبی دونوں علاقوں میں جاری ہے۔جبرئیل سعید صاحب کی رپورٹ ہے کہ اس وقت جنوبی غانا میں آچم (Akyim) اور ایک اور علاقہ ہے آکو یا پیم (Akuapim) کے علاقوں میں تبلیغ کا کام جاری ہے۔شمالی علاقے میں بھی Yendi کے علاقے میں ایک ہی ٹیم تبلیغ اور تربیت دونوں کام کر رہی ہے اور اس کے علاوہ والے والے (Walewale) میں ایک ان کا علاقہ ہے اوور سیز (Over Seas) ان علاقوں میں 15 تضمین تربیت کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔یہ نام اوور سیز عجیب لگتا ہے لیکن آگے اس کی وضاحت آئے گی۔اسی طرح دریائے وولٹا کے کنارے کام ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دس جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔وہاں بھی تربیتی ٹیم بھجوانے کا پروگرام ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اوورسیز کا جو ذکر کیا گیا تھا۔یہ علاقہ بہت وسیع ہے اور بڑے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔اس میں بہت سے گاؤں شامل ہیں اور سہولیات بالکل نہیں ہیں۔بہت کمی ہے۔سفر کی دقت اور راستے کی ڈوری کی وجہ سے یہ علاقہ اوور سیز کے نام سے مشہور ہے۔جب سفر کر کے وہاں جاؤ تب یہ احساس ہوتا ہے کہ چل کے تو پیدل ہی آئے ہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ کالے