خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 385

خطبات مسرور جلد ہشتم 385 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 پھر ایک قسم ان مہمانوں کی ہے جو پاکستان، ہندوستان اور افریقہ وغیرہ کے ممالک سے آئے ہیں۔افریقن ممالک کے احمدی مہمانوں اور اسی طرح بعض امریکہ کے مہمانوں کو بھی تبشیر کا شعبہ مہمان نوازی کافی حد تک سنبھال لیتا ہے۔لیکن پھر بھی عام شعبہ جات سے ان کا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔اس لئے ان کے احساسات کا بھی مکمل خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔جہاں تک پاکستان اور ہندوستان، بنگلہ دیش وغیرہ کے مہمان ہیں یہ لوگ اپنی غربت کے باوجو د خلافت سے ڈوری کی پیاس بجھانے کے لئے آتے ہیں اور پاکستان کے احمد کی تو خاص طور پر آج کل مظلومیت کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔اس قسم کے مہمانوں کے ساتھ بھی بہت زیادہ حسن سلوک کی ضرورت ہے۔بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کو زبان کا بھی مسئلہ ہوتا ہے اس لئے جہاں بھی ان کو مدد کی ضرورت ہو ، کار کنات اور کارکنان ، ان کی خدمت پر کمر بستہ رہیں۔اگر کسی کار کن سے کوئی بھی مہمان کسی بات کی درخواست کریں اور وہ شخص جس سے مدد کی درخواست کی جارہی ہے اگر اس کا وہ شعبہ نہیں بھی ہے ، تب بھی مہمان کو روکھا جواب دینے کی بجائے ان کی رہنمائی کر دیں۔عموما تو پاکستانی احمدیوں کے کوئی نہ کوئی عزیز یہاں ہیں جو ان کی مدد کرتے ہیں، لیکن جن کے نہیں ہیں وہ بعض اوقات پریشان ہو جاتے ہیں۔گو کہ گزشتہ دو تین سال سے یہ لوگ جو جلسہ کے دنوں کے علاوہ بھی یہاں رہتے ہیں کیونکہ دور سے آئے ہوتے ہیں اس لئے تین دن کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی مہمان نوازی چل رہی ہوتی ہے ، ان کی رہائش اور مہمان نوازی کا اچھا انتظام ہوتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا یاد دہانی بھی ضروری ہے۔اور اسی ضمن میں میں ان لوگوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے عزیز پاکستان سے ان کے ہاں مہمان آئے ہوئے ہیں۔کہ یہ صرف جلسہ کے انتظام ہی کا کام نہیں ہے کہ مہمانوں کو سنبھالیں بلکہ آپ لوگوں کا بھی کام ہے کہ اپنے عزیزوں کی مہمان نوازی کا حق ادا کریں۔پھر ایک قسم ان غیر از جماعت غیر مسلم اور مسلمان مہمانوں کی ہے جو جماعتی انتظام کے تحت آتے ہیں۔جہاں تک ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا تعلق ہے ایک خاص انتظام کے تحت یہ مہمان نوازی ہوتی ہے۔لیکن یہ لوگ عمومی طور پر ہمارے کارکنوں کو کام کرتے ہوئے بھی بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔ان کے رویہ کو بھی نوٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ان کے کام کے طریق اور اخلاق کو نوٹ کر رہے ہوتے ہیں۔عموماً ہر سال یہ لوگ کارکن اور کار کنات کے اخلاق کو دیکھ کر بہت متاثر ہو جاتے ہیں۔اب تو جرمنی میں بھی غیر ملکی مہمانوں کی کافی تعداد آنے لگ گئی ہے اور وہ بھی کارکنوں کے اخلاق سے متاثر ہوتے ہیں اور اس سال اکثر مہمانوں نے جو غیر تھے وہاں میرے سامنے اس بات کا اظہار کیا۔بہر حال یہ جو جماعت احمدیہ کے کارکنان کا ہر جگہ مزاج بن چکا ہے کہ اعلیٰ اخلاق دکھانے ہیں، اگر کسی مہمان کا نہ بھی کسی سے براہِ راست واسطہ ہو ، تب بھی جیسا کہ میں نے کہا ان کے کام کے