خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 384

خطبات مسرور جلد ہشتم 384 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 کچھ لوگ غیر سنجیدہ بھی ہوں اور وقت گزارنے کے لئے آتے ہوں لیکن اس بات کو ہم عموم پر محمول کر کے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ان آنے والے مہمانوں کی بھی مختلف قسمیں ہیں۔ایک تو وہ مہمان ہیں جو UK کے رہنے والے ہیں اور جلسہ کے دنوں میں اپنے ٹینٹوں میں، خیموں میں یا جماعتی انتظام کے تحت رہائش رکھتے ہیں اور تین دنوں میں جلسہ کے تمام شعبہ جات سے ان کا واسطہ پڑتارہتا ہے یا اکثر شعبہ جات سے واسطہ پڑتا ہے۔اس لئے ہر شعبہ کے کارکن کو ان سے اپنے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھانا ہے۔یہ نہیں کہ یہ UK کے رہنے والے ہیں یا کسی کے ساتھ کسی ڈیوٹی والے کارکن کی پہلے سے کوئی ناراضگی یا بدمزگی ہے تو اس کی مہمان نوازی کا حق ادا نہ کیا جائے۔اگر اس طرح کی حالت کسی میں پید اہوتی ہے تو وہ اپنی ڈیوٹی سے خیانت کر رہا ہو گا۔تو پہلی بات تو یہ کہ اپنی تمام تر رنجشوں کو بھول کر اپنے فرائض کی ادائیگی کرنا سب سے مقدم سمجھیں۔اگر پھر بھی کسی کارکن کو کسی خاص شخص کے بارہ میں دل میں کوئی انقباض ہے جس کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ اس کی مہمان نوازی کا حق ادا نہیں کر سکتا تو پھر اپنے ساتھ والے کارکن سے کہہ کر اس مہمان کی ضروریات کا خیال رکھوائیں۔پھر دوسری قسم UK کے رہنے والے مہمانوں کی ہی ہے ، جو روزانہ جلسہ سننے کے لئے آتے ہیں اور ایک یا دو دفعہ کھانا بھی جلسہ میں کھاتے ہیں۔اسی نظام کے تحت، نظامت مہمان نوازی کے تحت، حديقة المہدی میں یا اسلام آباد میں کھانا کھارہے ہوتے ہیں۔ان کا خیال رکھنا اور انہیں کھانا مہیا کرنا اس شعبہ کی ذمہ داری ہے۔گذشتہ سالوں میں بعض جگہوں سے شکایات آتی رہی ہیں کہ نہ صرف یہ کہ کھانا نہیں مہیا کیا گیا، بلکہ کارکن کا رویہ بھی اچھا نہیں تھا۔گو اس میں بعد تحقیق یہی ظاہر ہوا کہ کارکن کی اتنی غلطی نہیں تھی کیونکہ ان جگہوں پر جہاں وہ مطالبہ کیا جارہا تھا کھانے کا انتظام ہی نہیں تھا۔لیکن بہر حال اگر کسی وجہ سے انتظام نہیں ہے ، تو بڑے آرام سے، پیار سے مہمان کو سمجھا دیں۔اسی طرح پارکنگ والے اور ٹریفک کنٹرول والے ہیں اور سکیورٹی والے کارکنان ہیں۔ان کو بھی مہمانوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔یہ جو میں نے شکایت کی بات کی ہے، یہ کوئی عموم نہیں ہے ، ایک آدھ واقعہ میں ایسا ہوتا ہے لیکن پورے نظام کے لئے بعض دفعہ تکلیف دہ بن جاتا ہے۔عمومی طور پر تو بڑے حوصلہ سے اور تحمل سے کارکنان بعض لوگوں کی زیادتیاں بھی برداشت کر جاتے ہیں۔پھر تیسری قسم ہے ان مہمانوں کی جو یورپ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے ہیں یا آئیں گے۔بعض تو جماعتی نظام کے تحت اجتماعی قیام گاہوں میں ٹھہرتے ہیں۔بعض کے اپنے رہائش کے انتظام ہیں۔لیکن UK سے باہر ہونے کی وجہ سے ان کی توقعات کچھ زیادہ ہوتی ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ چند ایک ان میں سے غلط مطالبات بھی کر جاتے ہیں۔لیکن کارکنان اپنی پوری کوشش کریں کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔