خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 382
خطبات مسرور جلد ہشتم 382 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 پر دے بالکل اوپر اٹھ جاتے تھے ورنہ آپ کی آنکھوں کو پر دے چھپائے ہی رکھتے تھے۔اتنی حیادار تھیں آپ کی آنکھیں۔کہتے ہیں کہ رسول خداصلی ای کم سے آپ کو اتنی محبت تھی کہ جب کبھی آپ آنحضرت رسول مقبول صلی علیکم کا ذکر خیر فرماتے تو آپ فرماتے اگر یہ پاک رسول دنیا میں نہ آتا تو دنیا میں ہدایت ہی باقی نہ رہتی ، گمراہی گمراہی ہوتی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کو اخلاق رذیلہ سے بچنے کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ تم اللہ تعالیٰ کے مظہر بنو اور اخلاق فاضلہ اختیار کرو تا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا محبوب بنالے۔فرماتے ہم نے تو اپنے خدا کو ماں سے زیادہ محبت کرنے والا دیکھا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اخلاق ہی ایسے تھے کہ جس نے غور سے آپ کے اخلاق کو دیکھا وہی سر خم تسلیم ہو جاتا تھا اور آپ کی محبت میں چور ہو جاتا تھا اور آپ کی جدائی کو پسند ہی نہ کرتا تھا اور دھونی رما کر آپ کے ہی قدموں میں گر جاتا تھا اور گیند کی طرح ٹھوکریں کھا کر بھی آپ کی جدائی کو پسند نہ کرتا تھا۔یہ تھے میرے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اخلاق حسنہ۔کہتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بد ظنی سے بچنے کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے بد ظنی کرنے والا کبھی بھی نورِ ایمان سے منور نہیں ہو سکتا کیونکہ بدظنی خطر ناک بد اخلاقی ہے۔یہ خدا تعالیٰ سے بھی نا امید کر دیتی ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے بد ظنی سے بہت بچے۔بد ظنی کرنے والا خدا کی پاک جماعت میں شامل نہیں رہ سکتا۔یہی الہی سلسلہ کی پہچان ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار اپنی جماعت کو یہی نصیحت فرمائی ہے کہ ہماری جماعت کو چاہئے کہ قرآن کریم ہی کو معرفت الہی کا ذریعہ یقین کریں اور اس کے بتائے ہوئے ہی اعمالِ صالحہ ہو سکتے ہیں۔کیونکہ قرآن کریم نے انہی اعمال کا ذکر کیا ہے جو کہ انسان کو دنیا کی اور آخرت کی بھلائی تک پہنچاتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں یہی وہ آخری کتاب ہے جس کی برکات کا ذکر تمام دنیا کے راستبازوں کی زبان نے تصدیق فرمائی تھی۔پس ہماری جماعت اس پاک کتاب کو اپنا دستور العمل بنائے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) نمبر 6 صفحہ 66 تا 68) اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے بھی درجات بلند فرمائے جو یہ واقعات اور حالات ہم تک پہنچا کر ہمارے ایمانوں کو مزید بڑھانے کا باعث بنے۔اور ہمیں بھی توفیق دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو جو اسلام کے احیائے نو کا مشن ہے آگے بڑھانے کے لئے ، ہر قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔اپنی حالتوں کو حقیقی اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔یہی توقع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے کی ہے اور جو نمونے صحابہ نے ہمارے سامنے پیش فرمائے ہیں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 32، 31 مورخہ 30 جولائی تا 12 اگست 2010 صفحہ 13 تا 17)