خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 22

خطبات مسرور جلد ہشتم 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 ادھر اُدھر چلے جاتے تھے۔اس کی وجہ سے جہاں دوسری نیکیاں بجا لانے کی طرف توجہ پیدا ہوئی وہاں چندوں کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی۔اور کہتے ہیں کہ اسی طرح اس مسجد کی تعمیر کی وجہ سے مکمینی شہر میں ہی دوسرے محلے میں تبلیغ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور مضبوط جماعت قائم ہوئی ہے اور ایک بنی بنائی مسجد بھی ملی ہے اور یہ لوگ بھی باقاعدہ چندہ ادا کرتے ہیں اور روزانہ وہاں لوکل مشنری جو معلم ہے ان کی تربیتی کلاس بھی لیتے ہیں۔تو ایک مسجد بنائی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اضافہ کیا۔دوسری خود عطا فرما دی۔یوگنڈا کے امیر صاحب کو میں نے کہا تھا کہ 2010-2009ء میں 25 مساجد بنائیں۔اس میں سے 10 مساجد جماعت یوگنڈا اپنے خرچ پہ بنائے گی اور 15 مساجد کے لئے مرکز 30 ملین شلنگ مہیا کرے گا۔وہ لکھتے ہیں کہ اس طرح 25 مقامات پر مساجد کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے اور ان جگہوں پر نومبائعین میں ایک نئی روح پیدا ہوئی ہے اور بڑے جوش و خروش سے اپنی اپنی مساجد کے لئے وقار عمل کر رہے ہیں اور پختہ بلاک وغیرہ جو ہیں وہ بناتے ہیں۔اس کے علاوہ اور بعض جگہیں ہیں۔دوسری جگہوں میں کمولی زون میں 4 مساجد کی اجازت ملی تھی۔اس میں بھی لوگ مالی قربانیاں کر رہے ہیں۔اسی طرح اور جگہوں پر بھی۔امبالے زون میں ایک مخیر احمدی دوست مکرم سلیمان مقابی صاحب نے 15 ہزار امریکن ڈالر خرچ کر کے ایک بہت خوبصورت مسجد بنا کے جماعت کو دی ہے اور لاؤڈ سپیکر کا انتظام بھی کروایا ہے۔وہاں کے لوگ بھی جو احمدی ہو رہے ہیں قربانیوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔یہ نہیں کہ صرف یہاں کی قربانیوں پر انحصار ہے۔یہی دوست امبالے ہی میں ایک اور جگہ پر ایک بڑی مسجد بنا رہے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہر سال مساجد بنوانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔یہی قربانی کی روح ہے جو ان لوگوں میں بڑھ رہی ہے۔پھر مکونوزون میں خدا کے فضل سے پانچ مقامی احمدیوں کی ایک ٹیم بن گئی ہے۔جو مخیر حضرات ہیں وہ اپنے طور پر ہر سال 3 نئی مساجد اپنے ذمہ لے لیتے ہیں اور سارا سال ان کی تعمیر کرواتے ہیں۔ان کے مکمل ہونے پر مزید جماعتوں کا انتخاب کر لیتے ہیں۔تو یہ جو مسجدیں بنانے کی جاگ لگی تھی پہلے تو مرکز پر انحصار تھا اب ان میں خود بھی روح پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے، انہوں نے بھی چندے دینے شروع کر دیئے ہیں۔بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ریجن داسا (Dasa) میں مخالفت آج کل زوروں پر ہے اور مخالفین نے جماعتوں میں جاکر احمدیت کے خلاف لوگوں کو بھڑ کانے کا کام تیز کر دیا ہوا ہے