خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 372 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 372

خطبات مسرور جلد ہشتم 372 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 اقدس تشریف لے آئے۔ہمارے قریب ہی دروازہ تھا، اس میں سے حضور نکل کر میرے ساتھ کھڑے ہو گئے۔جناب مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم آگے کھڑے ہو گئے۔موذن نے تکبیر شروع کر دی۔تکبیر کے ختم ہونے تک میں نے حضور کے پاؤں سے لے کر سر تک سب اعضاء کو دیکھا حتی کے سر مبارک کے بالوں اور ریش مبارک کے بالوں پر بھی جب میری نگاہ پڑی تو میرے دل کی کیفیت اور ہو گئی۔میں نے دل میں کہا کہ الہی اس شکل اور صورت کا انسان میں نے آج تک کبھی نہیں دیکھا۔بال کیا تھے جیسے سونے کی تاریں تھیں۔اور آنکھیں خوابیدہ، گویا ایک مکمل حیا کا نمونہ پیش کر رہی تھیں۔ہاتھ اور پیروں کی خوبصورتی دل کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔اسی عالم میں محو تھا کہ الہی ! یہ وہی انسان ہے کہ جس کو ہمارے مولوی جھوٹا اور نبیوں کی ہتک کرنے والا بتاتے ہیں ؟ میں اسی خیال میں غرق تھا کہ امام نے اللہ اکبر کہا اور نماز شروع ہو گئی۔گو میں نماز میں تھا مگر جب تک سلام پھیرا میں اس حیرانی میں رہا کہ الہی وہ ہمارا مولوی جس کی داڑھی بڑھی ہوئی اور شرعی طور پر لبیں تراشی ہوئیں قرآن مجید کو ہاتھ میں لئے ہوئے قسمیں کھا رہا ہے اور سخت توہین آمیز الفاظ میں حضور کا نام لے لے کر کہہ رہا ہے کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہو گیا۔اسی خیال نے میرے دل پر شبہ اور شکوک کا دریا پیدا کر دیا۔کبھی تو دل کہتا کہ قرآن اٹھا کر اور خدا کی قسم کھا کر بیان کرنے والا بھلا کبھی جھوٹا ہو سکتا ہے ؟ یعنی مولوی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔شاید یہ شخص جو نماز میں کھڑا کیا ہے مرزا نہ ہو کوئی اور ہو، نئے آدمیوں کو دھو کہ دینے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے۔اور پھر حضور کی صاف اور سادہ نورانی شکل سامنے آتی تو دل کہتا کہ کہیں وہ قسم اٹھانے والا دشمنی کی وجہ سے جھوٹ نہ بول رہا ہو ؟ کہ لوگ سن کر قادیان کی طرف نہ جائیں۔خیر نماز ہو گئی، حضور شاہ نشین پر بیٹھ گئے۔اوّل تو آواز دی کہ مفتی صاحب ہیں تو آگے آجاویں۔جب مفتی صاحب آگئے تو پھر حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب کہاں ہیں ؟ میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب، حضرت خلیفتہ المسیح الاول نور الدین صاحب، سب سے آخری صف میں سے اٹھ کر تشریف لائے۔حضور نے باتیں شروع کر دیں جو طاعون کے بارے میں تھیں۔فرمایا ہم نے پہلے ہی لوگوں کو بتادیا تھا کہ میں نے فرشتوں کو پنجاب میں سیاہ رنگ کے پودے لگاتے دیکھا اور پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو آئندہ موسم میں پنجاب میں ظاہر ہونے والی ہے۔مگر لوگوں نے اس پر تمسخر کیا اور کہا کہ طاعون ہمیشہ سمندر کے کناروں تک رہتی ہے۔اندر ملک میں وہ کبھی نہیں آئی۔مگر اب دیکھو کہ وہ پنجاب کے بعض شہروں میں پھوٹ پڑی ہے۔غرض عشاء تک حضور باتیں کرتے رہے۔عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے۔ہم بھی آکر سور ہے۔آپس میں باتیں کرتے رہے کہ یہ کیا بھید ہے ؟ ہمارا مولوی قرآن اٹھا کر اور خدا کی قسمیں کھا کر کہتا تھا اور یہاں معاملہ برعکس نکالا۔خیر صبح ہم لوگ اٹھے اور ارادہ یہ ہوا کہ مولوی نور الدین صاحب سچ بولیں گے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ یہی مرزا صاحب ہیں یا کوئی اور ؟ جب ان کے مطب میں گئے تو