خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 21
خطبات مسرور جلد ہشتم 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 افریقن ممالک میں قربانی کی روح کسی کو یہ خیال نہ آئے کہ ان ملکوں میں رہنے والے جو احمدی ہیں شاید وہ اس مد میں قربانیاں نہیں دے رہے۔افریقہ کے ممالک میں بھی جماعت کے اندر باقی اور ملکوں کی طرح قربانیوں کی روح پیدا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ لوگ اپنے خرچ پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح ہندوستان کی جماعتیں ہیں۔خاص طور پر گزشتہ ایک دو سال میں مالی قربانیوں کی طرف ان میں بڑی تیزی سے توجہ پیدا ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ قربانیوں کے معیار بھی بڑھاتا چلا جائے۔اس وقت میں آپ کے سامنے افریقہ کے بعض واقعات رکھوں گا کہ ہمارے جو پروگرام ہیں، منصوبے ہیں ان کی وجہ سے کس طرح وہاں کام ہو رہے ہیں اور کس طرح لوگوں کی توجہ پیدا ہو رہی ہے۔مساجد کی تعمیر گھانا سے جبرئیل سعید صاحب کی ایک رپورٹ ہے کہ نومبائعین کے علاقوں اور نئی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے 9 مساجد زیر تعمیر ہیں۔دو مساجد مکمل ہو چکی ہیں۔ان نئے علاقوں میں مزید 25 مساجد کی تعمیر کا پروگرام ہے۔اس وقت احمدیت میں نئے داخل ہونے والے 30 اماموں کو تربیت دی جا رہی ہے اور ان کا ٹریننگ کورس ہو رہا ہے۔48 نوجوانوں کا ان کے دیہات سے انتخاب کر کے ان کو امام بنانے کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ٹریننگ کے بعد ان کو علاقوں میں امام بنا کر بھجوایا جائے گا۔وقف جدید کے اصول کے تحت جس طرح پہلے معلمین کو عارضی ٹریننگ دی جاتی تھی اسی طرح معلمین کو وہاں ٹریننگ دی جاتی ہے۔وہاں امام کہتے ہیں اور کچھ معلم کہتے ہیں۔یہ پچھلے مہینہ کی رپورٹ تھی۔کوارٹر پھر سیرالیون کے امیر صاحب لکھتے ہیں۔مکمپینی (Makini)جو کہ ناردرن صوبہ کار یجنل ہیڈ ہے اس میں ایک لمبے عرصے تک چونکہ مسجد نہیں تھی اس لئے مشن ہاؤس کے بر آمدے میں نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔بعض احمدی بھی غیر احمدیوں کی مساجد میں جاتے تھے اور گنتی کے چند احباب نمازوں اور جمعوں پر آیا کرتے تھے۔مسجد نہ ہونے کی وجہ سے احمدی بھی ادھر چلے جاتے تھے۔لیکن جب مکینی کی مسجد بنی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف احمدی واپس آئے ہیں بلکہ بہت ساری بیعتیں ہوئی ہیں اور اب جمعہ کے روز یہ مسجد کم پڑ جاتی ہے اور اس سے چندوں میں بھی غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔مسجد کی وجہ سے ایک جگہ ان کو مل گئی۔ایمان میں مضبوطی پیدا ہوئی۔پہلے تو