خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 368

خطبات مسرور جلد ہشتم 368 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 کہنے پر لوگوں نے مجھے مانا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں۔اگر میں نے اپنے پاس سے افتراء کیا ہے ، تو اس کی سزا مجھے ملے گی۔جن لوگوں نے مانا ہے ، ان کو سزا نہیں ملے گی۔چونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں، جو مانیں گے انہیں ثواب ملے گا۔یہ عین قرآنِ کریم کے اسلوب اور حکم کے مطابق ہے کہ وَ اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه (المومن: 29) که اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا۔لیکن وَاِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (المومن: 29)۔اگر یہ سچا ہے تو جو انداری پیشگوئیاں یہ کر رہا ہے ، وہ بلائیں یقیناً تم پر پڑنے والی ہیں۔آج ان مسلمانوں کو بھی اس پر غور کرنا چاہئے۔پھر کہتے ہیں کہ مولوی ابراہیم کے آگے منبر پر ایک کتاب پڑی تھی۔اس نے شرارت سے اٹھا کر اوپر کی اور کہا کہ اس طرح مسیح آسمانوں پر چلا گیا ہے۔اس مجمع میں ایک فقیر بھی بیٹھا ہوا تھا۔اب فقیر کی داستان بھی سنیں۔کہتے ہیں وہ فقیر بیٹھا تھا جس کا نام سائیں آزاد تھا۔بھورے کا کرتہ اس نے پہنا ہوا تھا۔اس نے بڑے زور سے کہا کہ او بابا! کیوں جھوٹ بولتے ہو اور لوگوں کو بہکاتے ہو۔قرآنِ مجید میں سے كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ( آل عمران : 186) کاٹ دو۔تین بار اس نے بڑے زور سے یہ کہا جس سے وہ فقیر پسینہ پسینہ ہو گیا۔پھر کہا میں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں مگر میں حق کو نہیں چھپانا چاہتا۔یہ اس فقیر کو تو سمجھ آگئی تھی، لیکن علماء کو سمجھ نہیں آتی۔کہتے ہیں کہ جس کمرے میں حضور سوئے ہوئے تھے اس کے ساتھ کے کمرے میں میں اور میرا بھائی تاج الدین سوئے ہوئے تھے۔چونکہ وہ بیمار تھے اور ساری رات کھانستے رہے اس لئے صبح حضور نے ان سے پوچھا کہ کون بیمار تھا، کھانس رہا تھا؟ کہتے ہیں وہیں ہم حضور کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب نے عرض کیا کہ حضور میر اخون بدن میں سے ٹپک رہا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ کابل میں آبپاشی کا کام کرے گا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 10 (غیر مطبوعہ) روایت میاں فیروز الدین صاحب صفحہ 129 تا 132) یہ رجسٹر روایات میں سے ایک روایت ہے۔پھر ایک روایت ہے حضرت عمر دین حجام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی۔یہ گجرات کے رہنے والے تھے اور انہوں نے تحریری بیعت 1899ء میں کی اور دستی بیعت 1900ء میں۔کہتے ہیں کہ ”غیر احمدی کہتے تھے کہ تم مرزائی ہو جاؤ گے۔لیکن جب میں اس جماعت کی طرف آتا تھا تو یہ لوگ قرآن شریف اور نماز وغیرہ پڑھتے تھے۔مجھے اس کی سمجھ نہ آتی تھی۔مگر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعامانگی کہ اے میرے مولا کریم! اگر یہ تیری طرف سے ہے تو مجھے اس کا دیدار نصیب ہو تا کہ میں اس کو مان لوں اور پیچھے نہ رہ جاؤں۔اور اگر یہ نعوذ باللہ سچا نہیں ہے تو تیری اور تیرے رسول کی اور تمام دنیا کی اس پر لعنت ہو کہ کیوں اس نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے اور لوگوں کو گمراہ