خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 335
خطبات مسرور جلد ہشتم 335 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 آتے۔شہید مرحوم کے ایک عزیز نے سانحہ سے ایک روز قبل خواب میں دیکھا تھا کہ میرے والد ڈاکٹر وسیم صاحب قبر کھود رہے ہیں اور ساتھ روتے ہیں کہ میرے کسی عزیز کی قبر ہے۔خدا تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم میاں محمد سعید در د صاحب اگلا ذکر ہے مکرم میاں محمد سعید درد صاحب شہید ابن مکرم حضرت میاں محمد یوسف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد گجرات کے رہنے والے تھے۔پھر قادیان شفٹ ہو گئے۔ان کے والد حضرت میاں محمد یوسف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دادا حضرت ہدایت اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے اور انہوں نے 1900ء میں بیعت کی تھی۔شہید مرحوم کے والد صاحب پارٹیشن تک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔اس کے علاوہ نائب امیر ضلع لاہور بھی رہے۔شہید مرحوم 1930ء میں گجرات میں پیدا ہوئے۔پیدائش کے بعد گھر والے قادیان شفٹ ہو گئے چنانچہ آپ نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔مولوی فاضل پاس کرنے کے بعد بی اے کیا اور بعد میں نیشنل بینک میں ملازمت اختیار کی جہاں سے 1970ء میں میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔زندگی میں چھ مرتبہ حج اور متعدد بار عمرہ کرنے کی سعادت بھی ملی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔قریباً ایک بجے بیت النور ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔جنرل ناصر صاحب کے ساتھ ویل چیئر پر بیٹھے تھے۔دو گولیاں ٹانگ میں اور ایک بازو میں لگی۔شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں اڑھائی گھنٹے آپریشن جاری رہا لیکن جانبر نہ ہو سکے اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔اہل خانہ نے بتایا کہ بہت دعا گو انسان تھے۔کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے۔نہایت مہمان نواز تھے۔باوجود بڑھاپے کے ہر ایک سے کھڑے ہو کر ملتے تھے۔بچوں کو نصیحت کی کہ اپنا دستر خوان ہر ایک کے لئے کھلا رکھنا۔اتنی عمر کے باوجو د سارے روزے رکھتے تھے۔1969ء سے ہر سال اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔صرف گزشتہ دو سال سے بچوں کے اصرار کی وجہ سے اعتکاف نہیں بیٹھے۔بیت النور ماڈل ٹاؤن کے سنگ بنیاد کے وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شہید مرحوم کے والد صاحب کو بھی بنیاد میں اینٹ رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اکثر بیٹھے بیٹھے رونے لگ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں اللہ کا شکر ادا کر تا ہوں کہ اس نے اتنی نعمتیں مجھے دی ہیں۔شہادت سے چند دن پہلے نائب امیر صاحب ضلع لاہور ان سے ملنے آئے تو ان سے کہا کہ یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہے۔جب تک نظر ٹھیک رہی بچوں کو قرآنِ کریم پڑھاتے رہے۔آخری وقت تک دیگر احباب سے چندہ وصول کرنے کے لئے خود پیدل جاتے اور کہتے کہ میں اگر اس غرض سے ایک قدم بھی چلوں گا تو سو قدم کا ثواب ملے گا۔بیت النور میں حصولِ ثواب کی خاطر اکثر پیدل جاتے تھے۔ان کی شہادت کے بعد ان کے میز پر دعائیہ خزائن کی کتاب کھلی ملی ہے جو کہ